مس انگلینڈ ہراسانی کیس کے کانگریس ملزمین کب گرفتار ہوں گے

بی آر ایس کے ورکنگ پریسیڈنٹ کے ٹی آر نے تلنگانہ اسمبلی گیٹ پر حال ہی میں پیش آنے والے احتجاج اور ہنگامہ آرائی کے بعد بی آر ایس کے ارکان اسمبلی ارکان قانون ساز کونسل کے خلاف پولیس کی جانب سے جنسی ہراسانی کے مقدمات درج کرنے پر شدید برہمی کا اظہار کیا۔ انہوں نے سوشل میڈیا کے پلیٹ فارم ایکس پر پوسٹ کرتے ہوئے حکمران جماعت کانگریس اور چیف منسٹر ریونت ریڈی پر پولیس مشنری کے غلط استعمال کا الزام لگایا۔ کے ٹی آر نے واضح کیا کہ بی آر ایس قیادت ان جھوٹے مقدمات کا قانونی طور پر عدالتوں میں ڈٹ کر مقابلہ کرے گی لیکن ساتھ ہی انہوں نے تلنگانہ کے ڈائرکٹر جنرل آف پولیس (DGP) اور اے آئی سی سی کے قائد راہول گاندھی سے تیکھے سوالات کئے۔ کے ٹی آر نے ریاستی حکومت اور پولیس کی یکطرفہ کارروائی کی سخت مذمت کی۔ انہوں نے کہا کہ چیف منسٹر نے اسمبلی گیٹ کے سامنے ہونے والے ہنگامے پر اپنی پولیس کے ذریعہ اپوزیشن قائدین کے خلاف جنسی ہراسانی کے بے بنیاد کیسیس درج کرواکر قانون کا کھلم کھلا غلط استعمال کیا ہے۔ کے ٹی آر نے سوال کیا کہ مس انگلینڈ کی جانب سے حیدرآباد میں منعقدہ مس ورلڈ مقابلے کے دوران کانگریس قائدین کے قابل اعتراض رویہ کے خلاف جنسی ہراسانی کے جو سنگین الزامات لگائے گئے تھے اس کا کیا ہوا۔ انہوں نے کہا کہ چیف منسٹر اور راہول گاندھی کے پاس اس کا کوئی جواب ہے کہ تلنگانہ پولیس اب تک ان سنگین الزامات کے ملزمین کو تحفظ کیوں فراہم کررہی ہے۔ واضح رہیکہ سال 2025ء میں تلنگانہ حکومت کے زیراہتمام حیدرآباد میں مس ورلڈ مقابلے کا انعقاد کیا گیا تھا۔ اس ایونٹ کے دوران مس انگلینڈ ملامیگی نے سنسنی خیز الزامات عائد کرتے ہوئے ایونٹ کا بائیکاٹ کردیا تھا۔ اس معاملے پر تلنگانہ حکومت نے ایک سینئر آئی پی ایس آفیسر کی قیادت میں اعلیٰ سطحی تحقیقات کا حکم دیا تھا جس پر کے ٹی آر نے اب دوبارہ سوالات کھڑے کردیئے ہیں۔
