حیدرآبادمیں 70سال بعد GHMC ایکٹ ختم CURE ایکٹ نافذ

تلنگانہ حکومت نے ریاست کی معاشی اور انتظامی ترقی کے بنیادی مرکز تلنگانہ کور اربن ریجن (CURE) پر اپنی تمام تر توجہ مرکوز کردی ہے ۔ اس سلسلہ میں تاریخی قدم اٹھاتے ہوئے 70 سال پرانے جی ایچ ایم سی 1955ایکٹ کو منسوخ کر کے نیا CURE ایکٹ نافذ کردیا گیا ہے ۔ حکومت کے مطابق 1955 کا سابق قانون محض 12لاکھ کی آبادی کو مدنظر رکھ کر بنایا گیاتھا جبکہ نیا CURE Act 2026 اضلاع حیدرآباد ، رنگاریڈی ، میڑچل اور سنگاریڈی پر مشتمل 1.30 کروڑ سے زائد آبادی کیلئے ایک جدید اور مضبوط انتظامی فریم ورک فراہم کرے گا ۔ نئے ایکٹ کے تحت کور اربن کی ہمہ گیر ترقی ، پالیسی سازی اور ویژن طئے کرنے کیلئے ریاست کے اعلیٰ ترین ادارہ کی تشکیل کا فیصلہ کیا گیا ہے ۔ چیف منسٹر تلنگانہ اس ایپکس گورننس کونسل کے صدرنشین ہوں گے جبکہ وہی کونسل کے دیگر اراکین کو نامزد کریں گے ۔ بلدیاتی نظم و نسق و شہری ترقی کے پرنسپل سکریٹری اس کونسل کے کنوینر ہو ں گے اور متعلقہ محکموں کے اعلیٰ عہدیدار ارکین کی حیثیت سے شامل رہیں گے ۔ یہ کونسل CURE کے دائرہ کار میں تمام شعبوں کی ترقی ، انفرا اسٹرکچر ، پالیسیوں اور سرمایہ کاری کے کوارڈینیشن کی رہنمائی کرے گی ۔ ایپکس کونسل کے فیصلوں پر عمل درآمد اور محکموں میں باہمی ربط برقرار رکھنے کیلئے پرنسپال سکریٹری کی چیرمین شب میں ایک اعلیٰ سطحی ایگزیکٹیو کمیٹی قائم کی گئی ہے ۔ ایچ ایم ڈی اے میٹرو پولیٹن کمشنر اس کمیٹی کے کنوینر ہوں گے ۔ کمیٹی میں تینوں میونسپل کارپوریشنس (CMC – GHMC اور MMC) کے سربراہان پولیس کمشنرس ( حیدرآباد ، ملکاجگری اور سائبرآباد) چار اضلاع حیدرآباد ، رنگاریڈی ، میڑچل ملکاجگری اور سنگاریڈی کے علاوہ TGSPDCL کے سی ایم ڈی ۔ واٹر بورڈ کے ایم ڈی HMRL – TGRTC کے سی ایم ڈی اور حیڈرا کے کمشنر شامل ہوں گے ۔ اس ایگزیکٹیو کمیٹی کا ہر تین ماہ میںایک بار شامل ہونا لازمی قرار دیا گیا ہے ۔ ایگزیکٹیو کمیٹی صرف بلدیاتی اُمور تک محدود نہیں رہے گی بلکہ اس کا بنیادی مقصد تمام محکموں کو ایک پلیٹ فارم پر لانا ہے ۔ کمیٹی CURE کی حدود میںکئے جانے والے تمام اہم اور ترجیحی کاموں کی نشاندہی کرے گی اور منظوری کیلئے ایپکس کونسل کو سفارشات پیش کرے گی ۔ تینوں میونسپل کارپوریشنس کے علاوہ پولیس ، ٹرانسپورٹ ،برقی ، واٹر بورڈ اور حیڈرا کے درمیان باہمی رابطہ قائم کر کے عوامی خدمات کو بلاتاخیر فراہم کرنا یقینی بنایا جائے گا ۔ چیرمین کو کمیٹی میں ضرورت کے مطابق دیگر ماہرین یا عہدیداروں کو بطور Special Invite مدعو کرنے کے اختیار حاصل ہوں گے ۔
