بریکس گروپ کے ارکان کی تعداد 5 سے بڑھ کر 11 ہوگئی

جنوب مشرقی ایشیائی ممالک میں عالمی سطح پر اپنے مفادات کے تحفظ اور معاشی ترقی کیلئے بریکس (BRICS) تشکیل دیا جس میں برازیل ، روس ، ہندوستان ، چین اور ساؤتھ افریقہ شامل ہیں۔ بریکس کا کوئی علحدہ نام نہیں ہے بلکہ پانچ ممالک کی شناخت کے طور پر اسے ادارہ کی شکل دی گئی ہے۔ بریکس سمٹ پہلی مرتبہ 2009 میں منعقد ہوا جس میں برازیل ، روس ، ہندوستان اور چین شامل تھے جبکہ 2011 میں ساؤتھ افریقہ نے گروپ میں شمولیت اختیار کرتے ہوئے اسے بریکس کا نام دیا۔ 2024 میں مصر ، ایتھوپیا، ایران ، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات نے گروپ میں شامل ہوتے ہوئے بریکس ارکان کی تعداد کو 10 تک پہنچایا ۔ جنوری 2025 میں انڈونیشیا بریکس کا 11 واں رکن بن چکا ہے۔ جنوبی مشرقی ایشیاء میں بریکس اپنی منفرد شناخت رکھتا ہے ۔ اس فورم کو معاشی ، سیاسی ، اور سفارتی باہمی تعاون کے مرکز کے طورپر استعمال کیا جارہا ہے ۔ ترقی پذیر ممالک کی آواز کے طور پر بریکس نے معیشت کے استحکام پر توجہ مرکوز کی ہے۔ بریکس سمٹ کا گزشتہ دنوں نئی دہلی میں کامیابی سے انعقاد عمل میں آیا جس میں ایران ، چین ، روس اور انڈونیشیا کے سربراہان مملکت نے شرکت کی ۔ نریندر مودی حکومت بریکس کے کامیاب انعقاد کے ذریعہ عالمی سطح پر اپنی شناخت کو مزید مستحکم کرنا چاہتی ہے۔ ہندوستان کے چین ، روس اور ایران کے ساتھ بہتر روابط کے پس منظر میں صرف سفارتی حلقوں میں امریکہ کے ساتھ تعلقات پر سوال کھڑے ہورہے ہیں۔
