حیدرآباد میٹرو ریل کے حصول میں تاخیر ، سرکاری خزانے پر یومیہ 2.5کروڑ کا سود کا بوجھ

تلنگانہ حکومت کی جانب سے میٹرو ریل کے پہلے مرحلے کے حصول کا عمل مقررہ مہلت میں مکمل نہ ہونے کے باعث مزید تین ماہ کیلئے التواء کا شکار ہوگیا ہے ۔ 13,600 کروڑ روپئے کے بینک قرض کی وصولی مکمل نہ ہونے سے شیر پرچیز اگریمنٹ (SPA) کے حتمی مرحلے پر بندش نہیں ہوسکی ۔ اس تاخیر کی بدولت حکومت تلنگانہ کو روزانہ کروڑہا روپئے کا سود برداشت کرنا پڑرہا ہے ۔ حکومت اور L&T حیدرآباد میٹرو ریل لمٹیڈ کے درمیان میٹرو کے پہلے مرحلے میں ایل اینڈ ٹی کی تمام حصص خریدنے جاریہ سال 29 اپریل کو شیر پرچیز ایگریمنٹ پر دستخط کئے تھے جس کی جملہ مالیت 1461.47 کروڑ طئے پائی تھی ۔ ایل اینڈ ٹی نے SEBI کو ابتدائی طور پر آگاہ کیا تھا کہ یہ مالیاتی منتقلی 30جون تک مکمل ہوجائیگی ۔ تاہم قرض کی منظوری میں تاخیر پر SEBI کی جانب سے 30ستمبر کی نئی ڈیڈ لائن دی گئی تھی ۔ میٹرو حکام کا کہنا ہے کہ اس مقررہ تاریخ تک عمل مکمل ہونا ممکن نہیں ہے ، لہذا مزید 3ماہ کی توسیع ناگزیر ہوچکی ہے ۔ معاہدہ کی شرائط کے تحت جس دن سے ایل اینڈ ٹی سے خریدی کا معاہدہ ہوا ہے ، اس دن سے قرضوں پر سود کا تمام بوجھ ریاستی حکومت پر عائد ہوچکا ہے ۔حکومت کو اس تاخیر سے روزآنہ 2.5کروڑ روپئے کا بھاری سود ادا کرنا پڑرہا ہے ۔ حکومت کو اُمید ہے کہ اگر SBI Caps اور میٹرو حکام 4فیصد سے کم شرح سود پر نیا قرض حاصل کرنے میں کامیاب ہوجاتے ہیں تو یہ یومیہ سود نصف تک گھٹ جائے گا اور میٹرو پراجکٹ خسارے سے نکل کر منافع بخش ادارے میں تبدیل ہوجائے گا ۔ حکومت نے 13,600 کروڑ روپئے کا قرض کم سے کم سود پر منظور کرنے کی ذزہ داری SBI Caps کو سونپی تھی اور اسے 2ماہ کا وقف دیا گیات ھا ۔ ایک ماہ سے زائد عرصہ گزرنے کے باوجو د اب تک سستے قرض کا انتظام نہیں ہوچکا ہے ۔ سستے مالیاتی وسائل کی تلاش کیلئے میٹرو حکام انڈین ریلوے فینانس کارپوریشن (IRCF) سے دوبارہ بات چیت کررہے ہیں جس نے پہلے 13,527 کروڑ روپئے کا قرض دینے کی پیشکش کی تھی لیکن بعد میں معاہدہ پروسیسنگ کے دوران رک گیا تھا ۔ حکام کو توقع ہے کہ اگر کم شرح سود پر مالیاتی ادارے قرض دینے تیار ہوجاتے ہیں تو تمام تر قانونی اور مالیاتی کارروائی کو اکٹوبر یا نومبر تک حتمی شکل دی جاسکے گی ۔
