گریجویٹ ایم ایل سی نشستوں پر کامیابی کیلئے چیف منسٹر ریونت ریڈی کی حکمت عملی

چیف منسٹر ریونت ریڈی نے گریجویٹ زمرے کی دو ایم ایل سی نشستوں کے انتخابات میں کانگریس امیدواروں کی کامیابی کو یقینی بنانے ایکشن پلان کی کمان سنبھال لی ہے ۔ ریونت ریڈی نے 23 اکٹوبر کو دونوں گریجویٹ حلقوں کے تحت آنے والے 77 اسمبلی حلقہ جات کے انچارج اور مقامی وزراء کے علاوہ ارکان پارلیمنٹ ، ارکان اسمبلی ، اسمبلی حلقوں کے انچارجس و پردیش کانگریس کمیٹی کے مقرر کردہ آبزرورس کا اجلاس طلب کیا ہے ۔ اجلاس میں فہرست رائے دہندگان کی تیاری اور انتخابی مہم کے سلسلہ میں ہدایات دی جائیں گی ۔ واضح رہے کہ حیدرآباد ، رنگاریڈی اور محبوب نگر اضلاع کے علاوہ نلگنڈہ ، کھمم اور ورنگل اضلاع پر مشتمل ایم ایل سی گریجویٹس نشستوں کے انتخابی تیاریوں کا آغاز ہوچکا ہے ۔ الیکشن کمیشن نے فہرست رائے دہندگان کی تیاری کا کام شروع کیا ہے اور اہل گریجویٹس کو نام شامل کرنے کی مہلت دی گئی ہے ۔ چیف منسٹر ریونت ریڈی نے وزراء اور ارکان اسمبلی کو فہرست رائے دہندگان میں ناموں کی شمولیت پر توجہ مرکوز کرنے کی ہدایت دی ہے ۔ باوثوق ذرائع کے مطابق فہرست کی تیاری کی مہم کے آغاز کے باوجود ارکان اسمبلی کی عدم دلچسپی پر چیف منسٹر نے ناراضگی کا اظہار کیا ہے ۔ گزشتہ دنوں صدر پردیش کانگریس مہیش کمار گوڑ کے ساتھ جائزہ اجلاس میں چیف منسٹر نے وزراء اور ارکان اسمبلی کو ہدایت دی تھی کہ وہ اہل گریجویٹس کے ناموں کی شمولیت کو یقینی بنائیں ۔ بتایا جاتا ہے کہ دسہرہ تہوار کے فوری بعد گریجویٹس نشستوں کی تیاریوں کا آغاز ہوگا اور چیف منسٹر خود شخصی طور پر نگرانی کریں گے ۔ بتایا جاتا ہے کہ کانگریس نے دونوں حلقہ جات کیلئے جن امیدواروں کا اعلان کیا ہے انہیں ارکان اسمبلی سے تعاون حاصل نہیں ہورہا ہے ، خاص طور پر نلگنڈہ ، کھمم اور ورنگل اضلاع میں پارٹی قائدین کے آپسی اختلافات کے نتیجہ میں پارٹی امیدوار کو دشواریوں کا سامنا ہے ۔ پارٹی نے اس حلقہ کیلئے رام ریڈی سروتم ریڈی کو امیدوار بنایا ہے جبکہ حیدرآباد ، رنگاریڈی اور محبوب نگر اضلاع پر مشتمل نشست کیلئے ایس رام موہن ریڈی امیدوار ہیں ۔فہرست رائے دہندگان میں کانگریس کے حامیوں کے ناموں کی شمولیت پر توجہ مرکوز کی جارہی ہے ۔ پردیش کانگریس کمیٹی کی جانب سے ہر اسمبلی حلقہ کیلئے مبصرین کا تقرر کیا گیا ہے ۔ کانگریس ہائی کمان نے بھی دونوں گریجویٹس نشستوں پر کامیابی کے سلسلہ میں قائدین کو واضح طور پر ہدایات جاری کئے ہیں ۔ دونوں مخلوعہ نشستوں میں ایک بی آر ایس کی ہے جبکہ دوسرے پر کانگریس کی تائید سے تین مار ملنا نے کامیابی حاصل کی تھی ۔ کانگریس برسراقتدار آنے کے بعد سکندرآباد کنٹونمنٹ اور جوبلی ہلز کے ضمنی چناؤ میں کانگریس کو کامیابی حاصل ہوئی ۔ ڈسمبر میں حکومت کے تین سال مکمل ہورہے ہیں اور چیف منسٹر ریونت ریڈی ایم ایل سی کی جملہ نشستوں پر کامیابی کی منصوبہ بندی کررہے ہیں تاکہ آئندہ اسمبلی انتخابات میں پارٹی کا بہتر مظاہرہ رہے ۔ ضلعی سطح پر پارٹی کے داخلی اختلافات کو ختم کرتے ہوئے وزراء اور ارکان اسمبلی کو متحدہ طور پر کانگریس امیدواروں کے حق میں کام کرنے کی ہدایت دی گئی ہے ۔
