بی جے پی کا اگلا نشانہ تلنگانہ، انتخابات میں بھاری اکثریت سے کامیابی کا عزم

TOP_16-2

مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ نے اعلان کیا ہے کہ بی جے پی کا اگلا نشانہ تلنگانہ ریاست ہے ، جہاں آئندہ انتخابات میں کانگریس کو شکست دیتے ہوئے بی جے پی بھاری اکثریت کے ساتھ کامیابی حاصل کرے گی اور عوام سے کیے گئے تمام وعدوں کو پورا کرتے ہوئے شفاف حکمرانی فراہم کرے گی۔ انہوں نے کانگریس پارٹی اور انڈیا اتحاد کے قائدین کو کھُلا چیلنج کیا کہ وہ EVM اور SIR کے موضوع پر کہیں بھی اور کسی بھی مقام پر کھلے مباحثے کے لیے پوری طرح تیار ہیں۔ آج ‘دستور بچاؤ’ کے نام پر بی جے پی کی جانب سے بشیر باغ میں واقع بابو جگجیون رام کے مجسمے سے لے کر معظم جاہی مارکیٹ تک پدیاترا کا اہتمام کیا گیا۔جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے مرکزی وزیر داخلہ نے اپوزیشن کے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ بی جے پی صرف EVM اور SIR کی مرہونِ منت کامیابی حاصل نہیں کررہی ہے۔ انہوں نے اپوزیشن پر شدید تنقید کرتے ہوئے سوال کیا کہ کیا نریندر مودی نے 2014 اور 2019 کے عام انتخابات میں SIR کے بغیر اتنی شاندار اور تاریخی جیت حاصل نہیں کی تھی؟ انہوں نے مزید کہا کہ اگر EVM کی بنیاد پر ہی تمام الیکشن جیتے جا رہے ہیں تو پھر خود کانگریس پارٹی تلنگانہ میں کیسے برسرِ اقتدار آ گئی؟ اس کے علاوہ کیرالہ، تمل ناڈو اور ہماچل پردیش جیسی ریاستوں میں مخالف جماعتیں اور اپوزیشن اتحاد اپنی حکومتیں بنانے میں کیسے کامیاب ہوئے ؟ انہوں نے راہول گاندھی اور انڈیا اتحاد کے تمام بڑے قائدین کو چیلنج کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس موضوع پر سنجیدہ اور کھلی بحث کے لیے ہر وقت تیار ہیں۔امیت شاہ نے کانگریس پارٹی پر سخت تنقید کی اور کہا کہ ملک کے عوام اس پارٹی کو مکمل طور پر مسترد کر چکے ہیں، جس نے اپنے 10 سالہ دورِ اقتدار کے دوران 12 لاکھ کروڑ روپے کی بھاری بدعنوانی کی تھی۔ انہوں نے طنز کرتے ہوئے کہا کہ ملک کی کئی ریاستوں میں اب سیاسی پارٹیاں اپنا وجود کھوتی جا رہی ہیں اور موجودہ وقت میں کانگریس پارٹی ایک طرح سے وینٹی لیٹر پر آخری سانس لے رہی ہے۔ انہوں نے سوالیہ انداز میں پوچھا کہ کیا وہ کانگریس پارٹی، جو خود وینٹی لیٹر پر پڑی ہے ، ملک کے مقبولِ عام وزیر اعظم نریندر مودی کا کسی بھی سطح پر مقابلہ کرنے کی سکت رکھتی ہے ؟۔