چھتیس گڑھ سے بجلی کی خریداری، سابق چیف منسٹر کے سی آر کی وضاحت

KCR-ELECTRICITY-390x220

چھتیس گڑھ سے بجلی کی خریداری کے معاہدہ کے سلسلہ میں وضاحت کیلئے جسٹس نرسمہا ریڈی کی زیرقیادت عدالتی کمیشن کی جانب سے تلنگانہ کے سابق وزیراعلی کے چندرشیکھرراو کو جاری نوٹس پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے چندرشیکھرراو نے کمیشن کو ایک مکتوب روانہ کیا۔ اس 12صفحات پر مبنی مکتوب میں انہوں نے کئی باتوں کا تذکرہ کیا۔اس مکتوب میں کہا گیا ہے کہ یہ کمیشن بدنیتی سے قائم کیا گیا ہے۔ انہوں نے اعتراض کیا کہ کمیشن کی انکوائری شفاف نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ دس سال تک بطور وزیراعلی وہ رہے۔ ان کا نام بھی اس معاملہ میں لیا گیا۔ چندرشیکھرراو نے کہا کہ ان کا خیال ہے کہ کمیشن کے سامنے انہوں نے جو کچھ کہا اس کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ ان کی حکومت کے دور میں بجلی کے معاملہ میں انقلابی تبدیلیاں لائی گئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے عوام کو 24 گھنٹے معیاری بجلی فراہم کی ہے۔ ریاست میں بجلی کا شعبہ قبل ازیں مشکل حالات میں تھا۔ انہوں نے کہا کہ یہ ایک حقیقت ہے۔ مایوس کسان خودکشی کرتے ہیں، موٹریں جل جاتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جنریٹرس اور انورٹرز کا دور تھا۔