تلنگانہ میں اگست سے جائیدادوں کے رجسٹریشن کے نئے چارجس کا نفاذ

HOUSE-REGISTRATION

 ریاست تلنگانہ میں یکم / اگست سے زرعی اور غیر زرعی اراضی اور جائیدادوں کے نئے رجسٹریشن چارجس نافذ العمل ہوں گے۔ حکومت تلنگانہ نے حالیہ دنوں محصولات میں اضافہ کرنے کے فیصلہ کے بعد اراضیات اور جائیدادوں کے رجسٹریشن کے چارجس پر نظر ثانی کرنے کا قدم اٹھایا گیا ہے۔ گذشتہ سال دسمبر میں ریاست میں کانگریس کے برسر اقتدار آنے کے بعد پہلی بار زمین کی ویلیو (قدر) اور رجسٹریشن چارجس میں اضافہ کیا گیا ہے۔ محکمہ اسٹامپ اینڈ رجسٹریشن نے موجودہ قدر(قیمت) کا مطالعہ کرنے، رجسٹریشن کے چارجس پر نظر ثانی اور رجسٹریشن کے نئے چارجس طئے کرنے کیلئے عملی منصوبہ پر کام شروع کردیا ہے۔ محکمہ اسٹامپ نے اس مسئلہ میں 18جون کو ایڈیشنل کلکٹرس اور آر ڈی اوز کے ساتھ میٹنگ کے بعد زمینی کارروائی شروع کرے گی۔ محکمہ اسٹامپ اینڈ رجسٹریشن نے شہری اور دیہی علاقوں میں مارکٹ ویلیو پر نظر ثانی کے رہنمایانہ خطوط جاری کئے ہیں۔مرحلہ وار اساس پر تجزیہ کے بعد نئے رجسٹریشن چارجس کے باریک میں قطعیح فیصلہ یکم جولائی کو کیا جائے گا اور چند مرحلوں کی تنقیح کے بعد مارکٹ ویلیو کو حتمی شکل دی جائے گی۔ منڈل اور ضلع سطح پر کمیٹیوں کی جانب سے مطالعہ کے بعد نئے مارکٹ ویلیو کو یکم اگست سے نافذ کیا جائے گا۔محکمہ اسٹامپ اینڈ رجسٹریشن، ریونیو، بلدی نظم ونسق و شہری ترقیات، پنچایت راج اور سروے محکموں کے عہدیداروں کے ساتھ ایک اجلاس طلب کرے گا۔ یکم جولائی کو ویبو سائٹ پر نظر ثانی ویلیوز کی پوسٹ کرنے کے بعد محکمہ رجسٹریشن،20جولائی تک اس ضمن میں عوام سے تجاویز و اعتراضات قبول کرے گا۔ ویلیوز (قیمتوں) پر نظر ثانی کا عمل 31 جولائی تک تکمیل کرلیا جائے گا۔ نظر ثانی قیمتیں یکم اگست سے نافذ ہوں گی۔ چیف منسٹر اے ریونت ریڈی نے گزشتہ ماہ محکمہ کے عہدیداروں کو ہدایت دی تھی کہ وہ اراضیات کی مارکٹ قیمتوں پر نظرثانی کرنے کی ہدایت دی تھی۔ اجلاس کے دوران اس بات کا نوٹ لیا گیا تھا کہ ریاست بھر میں اراضیات کی قیمتوں میں جہاں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے مگر اس اضافہ محکمہ رجسٹریشن کی آدمنی میں خاطر خواہ اضافہ نہیں ہوا ہے۔ عہدیداروں نے چیف منسٹر کو بتایا تھا کہ مارکٹ ویلیو اور زمین کی فروخت کی قیمت کے درمیان بہت زیادہ فرق ہے۔ سابق بی آر ایس حکومت نے 2021 میں لینڈ ویلیو اور رجسٹریشن چارجس میں اضافہ کیا تھا مگر اس میٹنگ میں کہا گیا ریاست کے مختلف مقامات پر زمین کی مارکٹ ویلیو افر اراضی کی فروخت کی قیمت میں بہت بھاری فرق ہے۔ قواعد کے لحاظ سے ہر سال اراضی کی مارکٹ ویلیو (قیمت) پر نظر ثانی کرنا چاہئے مگر اس پر عمل آوری نہیں ہورہی ہے۔ چیف منسٹر ریونت ریڈی نے عہدیداروں کو سائنٹفک انداز میں زمینات کی مارکٹ قیمت پر نظر ثانی کرنے اور محکمہ اسٹامپ ورجسٹریشن کو ان ریگویشن کو سختی کے ساتھ نافذ کرنے کی ہدایت دی تھی۔ انہوں نے مشورہ دیا کہ اراضیات کی قیمت پر اس طرح نظر ثانی کرنی چاہئے کہ اس سے نہ صرف رئیل اسٹیٹ اور تعمیراتی سیکٹر کے ساتھ حکومت کی بھی آمدنی میں بھی اضافہ ہوسکے