بابری مسجد کا انہدام‘بچوں کو حقائق سے واقف ہونا چاہیے:اسداویسی

ASAD-OWAISI-2

کل ہند مجلس اتحاد المسلمین (اے آئی ایم آئی ایم) کے صدر اسد الدین اویسی نے آج یہاں کہا کہ ہندوستان کے بچوں کو بابری مسجد کے انہدام کے تعلق سے سپریم کورٹ کے بیان سے اور حقائق سے واقف ہونا چاہیے۔ عدالت نے مسجد کے انہدام کو نہایت قبیح مجرمانہ حرکت قرار دیا ہے۔ حیدر آباد کے رکن پارلیمنٹ اسد الدین اویسی نیشنل کونسل فار ایجوکیشنل ریسرچ اینڈ ٹریننگ (این سی ای آر ٹی) کے اس فیصلہ پر رد عمل کا اظہار کررہے تھے، جس میں کونسل نے بابری مسجد کو 3 گنبد کے ڈھانچہ کا نام دینے کی جانب توجہ مبذول کروائی۔ کونسل نے ایودھیا فیصلہ کو اتفاق رائے کی ایک مثال قرار دینے کا بھی فیصلہ کیا ہے۔ اویسی نے کہا کہ بابری مسجد کو منہدم کرنے کے تعلق سے ہندوستان کے بچوں کو حقائق سے واقف ہوناچاہیے۔صدر مجلس نے کہا کہ 1949ء میں مسجد کی بے حرمتی کی گئی اور 1992 میں منہدم کردیا گیا۔ این سی ای آر ٹی کے ڈائرکٹر دنیش پرساد سکلانی کے بابری مسجد انہدام اور گجرات فسادات کے تعلق سے اسکول کی نصابی کتب میں پیش کردہ مواد کی مدافعت کرنے پر ریمارک کیا۔ دنیش پرساد نے کہا کہ فسادات کے تعلق سے تدریس سے تشدد پیدا ہوتا ہے اور شہری افسردہ اور ذہنی دباؤ کا شکار ہوسکتے ہیں۔