ہریانہ: قبر کھود کر نکالی گئی مسلم خاتون کی لاش، آخر 17 بچوں کی ماں کے ساتھ کیا ہوا تھا؟

n6420868561733375905578fecbf9e5251b7c5ff237acdb69fc05a936ec2547c53b60aef436f05346927796

ہریانہ کے پانی پت کے پالڑی گاؤں میں ایک حیران کن معاملہ سامنے آیا ہے۔ یہاں ایک مسلم خاتون کی لاش کو قبر سے نکالا گیا۔ خاتون کی بیٹی کی شکایت پر ڈیوٹی مجسٹریٹ کی موجودگی میں لاش کو قبر سے نکالا گیا۔ بیٹی نے ماں کے قتل کا شبہ ظاہر کیا تھا۔ فی الحال لاش کو پوسٹ مارٹم کے لیے سول اسپتال پانی پت بھیج دیا گیا ہے۔ خاتون کی بیٹی نے بتایا کہ وہ سمالکھا میں رہتی ہے اور میری ماں سلامتی گاؤں کے اسرانہ تھانے کے پالڑی میں رہتی تھی۔ 2 دسمبر کو چچا کے بیٹے فیروز نے فون کر کے بتایا کہ چچی کا انتقال ہو گیا ہے۔ جب وہ گاؤں پہنچی تو دیکھا کہ کمرے میں آگ لگنے کی وجہ سے میری ماں کا آدھا جسم جل چکا تھا۔ کمرے میں موجود چارپائی اور کپڑے بھی جل چکے تھے۔ بیٹی نے بتایا کہ ہمیں لگا کہ یہ ایک حادثہ ہے۔ کیونکہ والدہ کو بیڑی پینے کی عادت تھی اور وہ دل کی مریضہ بھی تھیں اور اس وجہ سے ہمیں خدشہ تھا کہ بیڑی پیتے ہوئے آگ لگنے سے حادثہ پیش آیا ہوگا۔ اس کے بعد ہم نے لاش کو گاؤں کے قبرستان میں سپرد خاک کر دیا لیکن تدفین کے بعد جب ان کے فون کو تلاش کیا تو ان کا فون نہیں ملا۔ کال کی تو گھنٹی بجنے پر فون کاٹا جا رہا تھا۔ دوسری جانب ماں کی سونے کی بالیاں بھی غائب تھیں اور باریکی سے چیک کرنے پر ان کی چارپائی کے اردگرد خون کے نشانات ملے تو اہل خانہ کو قتل کا شبہ ہوا۔ خاتون کی بیٹی نے اسرانہ پولیس اسٹیشن میں شکایت درج کرائی۔ قابل ذکر ہے کہ خاتون کے 17 بچے تھے اور 16 بچے فوت ہو چکے ہیں۔ شکایت موصول ہوتے ہی تھانہ اسرانہ پولیس نے مزید کارروائی کا آغاز کرتے ہوئے نامعلوم شخص کے خلاف مقدمہ درج کرکے ڈیوٹی مجسٹریٹ کو مقرر کروایا۔ بدھ کے روز ڈیوٹی مجسٹریٹ کی موجودگی میں لاش کو قبر سے نکال کر تحویل میں لے کر پوسٹ مارٹم کے لیے پانی پت کے سول اسپتال بھیج دیا گیا اور یہیں لاش کا پوسٹ مارٹم کیا جائے گا۔ موت کی وجہ پوسٹ مارٹم رپورٹ کے بعد ہی سامنے آئے گی۔ ڈی ایس پی ستیش وتس کا کہنا ہے کہ کیس میں ملزم پائے جانے والے شخص کو بخشا نہیں جائے گا۔