کینیڈا میں پگڑی اور داڑھی رکھنے والے سکھوں کے خلاف جرائم میں اضافہ، پنجاب میں والدین فکرمند

n6427988221733825173567f0a27ccbcc7606be13b776617806dcd8f7469bbd4fa5524c30901db1659f859a

کینیڈا میں سکھ برادری بالخصوص پگڑی اور داڑھی رکھنے والوں کے خلاف نسل پرستانہ حملوں اور تشدد میں اضافے نے پنجاب میں والدین کو شدید تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔ وہ اپنے بچوں کی حفاظت کے بارے میں فکر مند ہیں، جو تعلیم یا کام کے لیے کینیڈا گئے ہیں۔ کینیڈا میں سکھ برادری، جو کل آبادی کا 2.1 فیصد ہے، طویل عرصے سے نسلی امتیاز اور حملوں کا شکار رہی ہے۔ حالیہ مہینوں میں اس طرح کے واقعات میں اضافے سے سکھ برادری میں خوف اور غم و غصہ پیدا ہوا ہے۔ اہم واقعات

1 ہرشندیپ سنگھ ( 20 سال): ایڈمونٹن میں سیکورٹی گارڈ کو گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا۔
2 گوراسیس سنگھ (22 سال): سارنیا میں اس کے ساتھی ہم جماعت نے چاقو سے قتل کیا۔
3 رپودمن سنگھ ملک: وینکوور میں گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا۔
4 ہرپریت سنگھ اپل اور اس کا بیٹا (11 سال): ایڈمنٹن میں قتل۔
5 پون پریت کور (21) : اونٹاریو میں گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا۔
6 سنراج سنگھ (24 سال): البرٹا میں گولیوں سے چھلنی لاش ملی۔
تاریخ دان پروفیسر کنال کے مطابق کینیڈا میں سکھوں کے خلاف نسلی امتیاز کے واقعات نئے نہیں ہیں۔ 1907 کے بیلنگھم فسادات میں سکھ برادری کو نشانہ بنایا گیا تھا۔ 1914 کے کاماگاٹا مارو واقعے میں 376 ہندوستانی مسافروں کو کینیڈا میں داخل ہونے سے روکا گیا اور ہندوستان واپس بھیج دیا گیا، جہاں انہیں ظلم و ستم کا سامنا کرنا پڑا۔ قومی اقلیتی کمیشن کے چیئرمین اقبال سنگھ لال پورہ نے کینیڈا کی حکومت سے ان واقعات پر سخت کارروائی کرنے کی اپیل کی ہے۔ این ڈی پی لیڈر جگمیت سنگھ اور سابق وزیر دفاع ہرجیت سنگھ سجن بھی نسلی تبصرے اور حملوں کا شکار ہو چکے ہیں۔ کینیڈا میں آباد پنجابی اپنے خاندانوں اور بچوں کی حفاظت کے لیے انتہائی پریشان ہیں۔ بلونت سنگھ نے کہا کہ ہمارے بچے بیرون ملک تعلیم حاصل کر رہے ہیں اور کام کر رہے ہیں لیکن ایسے واقعات دل دہلا دینے والے ہیں۔ کینیڈین مصنف سکھوندر سنگھ چوہلہ نے کہا کہ اس قسم کے واقعات سے سکھ برادری میں عدم تحفظ کا احساس پیدا ہوتا ہے۔ یہ کینیڈا میں سکھوں کی بنائی گئی ساکھ پر بھی حملہ ہے۔