ٹرمپ نے اڑایا ٹروڈو کا مذاق، کہا- کینیڈا کے گورنر جسٹن ٹروڈو کے ساتھ ڈنر کرکے بہت اچھا لگا

n6427988211733825351165d1165811271a8833e647f8013e6d622a6086dd13fe7ddbcef6b507d67e177718

ڈونالڈ ٹرمپ نے کینیڈا کے وزیر اعظم جسٹن ٹروڈو کا مذاق اڑاتے ہوئے انہیں گریٹ اسٹیٹ کینیڈا کا گورنر قرار دیا۔ ٹرمپ نے یہ بیان اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر پوسٹ کرتے ہوئے دیا۔ انہوں نے لکھا کہ کینیڈا کی عظیم ریاست کے گورنر جسٹن ٹروڈو کے ساتھ عشائیہ ( ڈنر)کرنا خوش آئند تھا۔ یہ مذاق ایک ایسے وقت میں سامنے آیا جب ٹرمپ نے اس سے قبل کینیڈا کو امریکہ کی 51ویں ریاست بنانے کا مشورہ دیا تھا۔ حال ہی میں ٹرمپ اور ٹروڈو کے درمیان ملاقات ہوئی جس میں کینیڈا پر عائد ٹیرف اور تجارتی امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ اس ملاقات کے دوران ٹروڈو نے کینیڈا پر محصولات عائد کرنے پر ٹرمپ سے اپنی تشویش کا اظہار کیا جس کے بعد ٹرمپ نے طنزیہ تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ کینیڈا کو امریکہ کی 51ویں ریاست بنا دینا چاہیے۔ ٹرمپ نے اپنی پوسٹ میں آگے لکھا کہ میں گورنر سے دوبارہ ملاقات کا منتظر ہوں تاکہ ہم ٹیرف اور تجارت پر اپنے گہرے مذاکرات جاری رکھ سکیں اور اس کا نتیجہ ہم سب کے لیے بہت اچھا ہو گا۔ ٹرمپ نے واضح کیا کہ انہیں توقع ہے کہ اس ملاقات میں تجارت اور دیگر مسائل پر طویل بات چیت ہوگی۔ یہ پہلا موقع نہیں ہے کہ ٹرمپ نے کینیڈا کے حوالے سے متنازعہ بیان دیا ہو۔ حال ہی میں ٹرمپ نے کینیڈا کو بڑی دھمکی دی تھی کہ اگر وہ امریکہ میں تارکین وطن اور منشیات کے بڑھتے ہوئے مسئلے کو روکنے میں کامیاب نہیں ہوئے تو وہ کینیڈا اور میکسیکو سے آنے والی تمام مصنوعات پر 25 فیصد ٹیرف لگا دیں گے۔ اس کے جواب میں ٹروڈو نے اس معاملے پر ٹرمپ سے ملاقات کی درخواست کی اور کہا کہ امریکہ کی شمالی سرحد میکسیکو سے الگ ہے، اس لیے کینیڈا پر عائد ٹیرف کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔
یہ ملاقات ٹرمپ کے مار-اے-لاگو کلب میں ہوئی جس میں کینیڈا کے پبلک سیفٹی منسٹر ڈومینک لیبلانک نے بھی شرکت کی۔ بعد میں، ٹروڈو کے نمائندوں نے کہا کہ ٹرمپ کا تبصرہ مذاق میں تھا، لیکن اس سے دونوں ممالک کے تعلقات مزید کشیدہ ہوئے۔ اس سے قبل ٹرمپ نے کینیڈا کو امریکہ کی 51ویں ریاست بننے کا مشورہ دیا تھا جس سے دونوں ممالک کے تعلقات مزید پیچیدہ ہو گئے تھے۔ ٹرمپ کی یہ تجویز ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب کینیڈا نے امریکہ کے ساتھ تجارتی تعلقات کے حوالے سے کئی اعتراضات اٹھائے تھے اور کینیڈا کے خلاف ٹیرف لگانے کا معاملہ زیر بحث تھا۔ ٹرمپ کا مشورہ، جو انہوں نے مذاق میں کہا تھا ، پردونوں ممالک میں شدید ردعمل نہیں آیا ، لیکن اس سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ ٹرمپ کینیڈا کے ساتھ تجارتی تعلقات اور سرحدی حفاظت کے لیے زیادہ سخت رویہ اختیار کر سکتے ہیں۔