جنوبی کوریائی صدر کو مار شل لا لگانا پڑا بھاری، پارلیمنٹ میں یول کے خلاف مؤاخذے کی تحریک منظور

n6433637071734170321960cebafbd697d35001cd8c1ee540262639d143bf9fb618b45ddb2f887f6e25d82e

جنوبی کوریا کی اپوزیشن جماعتوں نے ہفتے کے روز صدر یون سُک یول کے خلاف مواخذے کی تحریک کی قرار داد منظور کر لی۔ اس قرارداد میں صدر کو ان کی سرکاری ذمہ داریوں سے معطل کر دیا گیا ہے۔ یہ قدم صدر کی جانب سے گزشتہ ہفتے مارشل لا(فوجی راج)لگانے کی کوشش کے بعد اٹھایا گیا تھا، جسے چند گھنٹوں کے بعد واپس لے لیا گیا تھا۔ گزشتہ ہفتے صدر یون سک یول نے اچانک ملک میں مارشل لا لگانے کا اعلان کیا تھا لیکن اس کے بعد انہوں نے چند گھنٹوں میں ہی اسے واپس لے لیا۔ اس کے باوجود اپوزیشن جماعتوں نے اس اقدام کو جمہوریت کے لیے خطرہ سمجھا اور صدر کے خلاف مواخذے کی کارروائی شروع کی۔ ان کے بقول صدر کا یہ قدم آئینی حقوق کی خلاف ورزی ہے اور اسے جمہوری نظام کے خلاف ایک کوشش سمجھا گیا ہے ۔ جنوبی کوریا کی پارلیمنٹ میں اپوزیشن جماعتوں نے مواخذے کے حق میں ووٹ دیا اور صدر کو ان کی حکومتی ذمہ داریوں سے معطل کر دیا۔ اس دوران پارلیمنٹ کے باہر بھی احتجاج کیا گیا جس میں صدر کے خلاف نعرے لگائے گئے۔ مظاہرین نے مارشل لا کے اعلان کو ملک کی جمہوری آزادیوں پر حملہ قرار دیا۔ مواخذے کی یہ تحریک جنوبی کوریا کی سیاست میں ایک اہم موڑ ہے۔ صدر یون سک یول کے حامیوں نے اس اقدام پر تنقید کی ہے جب کہ اپوزیشن جماعتوں کا کہنا ہے کہ صدر کے اس اقدام کا مقصد سیاسی اختلاف کو دبانا تھا۔ مخالفین کا کہنا ہے کہ صدر نے بغیر کسی ٹھوس وجہ کے مارشل لا کا اعلان کیا جو کہ ایک سنگین صورتحال تھی اور جمہوریت کے لیے خطرہ ہو سکتی ہے۔ تاہم صدر نے اسے صرف ایک عارضی قدم قرار دیا اور چند گھنٹوں بعد اسے واپس لے لیا، جنوبی کوریا کی پارلیمنٹ نے اس واقعے کے حوالے سے صدر کے اقدام کو سنجیدگی سے لیا اور اسے جمہوری اصولوں کی خلاف ورزی قرار دیا۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ صدر کے خلاف مواخذے کی اس تحریک کا عمل مزید کس سمت بڑھتا ہے اور کیا جنوبی کوریا کے عدالتی نظام میں کوئی فیصلہ کن قدم اٹھایا جائے گا۔