ممبئی میں سمنٹ پلانٹ سے عوام کی زندگی کو خطرہ لاحق

انوشکتی نگراسمبلی حلقہ کی نو منتخب رکن اسمبلی ثنا ملک نے آج ناگپور ایوان اسمبلی اپنے حلقہ میں درپیش مسائل کا تذکرہ کرتے ہوئے اسپیکر کی توجہ اس جانب مبذول کرائی کہ گوونڈی ایسٹ میں غیر قانونی آر ایم سی(ریڈ سیمنٹ مکسنگ پلانٹ) کے سبب صحت عامہ کو شدید خطرہ لاحق ہے ۔انہوں نے بتایا کہ دیونار سلاٹر ہاؤس کے قریب موجود ان آر ایم سی پلانٹوں کے سبب اطراف میں بسنے والے کم وبیش 50 ہزار رہائشیوں کی صحت شدید خطرے سے دوچار ہے ،مقامی اسپتالوں سے دستیاب رپورٹس اس امر کی گواہ ہے کہ یہاں کے مکیں سانس اور چمڑی کی بیماریوں کا شکار ہورہے جن میں زیادہ تعداد بچوں اور بزرگوں پر مشتمل ہے ۔انہوں نے بتایا کہااس ضمن میں حکومت نے جو رہنما ہدایات جاری کی ہیں اس کی صریح خلاف ہورہی ہے ۔مذکورہ ہدایت کے مطابق اس قسم کی کمپنیوں کے لئے لازم ہے کہ وہ اپنے پلانٹ رہائشی علاقوں سے 100 میٹراورنئے حکم کے مطابق 500میٹر کی دوری پر قائم کریں مگر یہاں موجوداے ایس ڈبلیو آرایم ایس پلانٹ اور ویلکون آر ایم سی پلانٹ نامی کمپنیاںاس قانون کی کھلی خلاف ورزی کر رہی ہیں۔اس ضمن میں یہاں واقع مختلف سوسائٹیوں کے مکینوں نے اس مد میں شکایتیں کی ہیں۔ثنا ملک نے ایوان اسمبلی میں انکشاف کیا کہ یہ کمپنیاں وقت کا بھی کوئی لحاظ نہیں کرتیں صبح 6بجے سے شام 6بجے تک ریڈسیمنٹ مکسنگ جاری رہتی ہے جس کے فضائی اور صوتی آلودگی میں بے تحاشہ اضافہ ہورہا ہے ،انہوں نے مطالبہ کیا ان کمپنیوں کے لائسنس ضبط کئے جائیں اور حکومت اس معاملہ کی مکمل جانچ پڑتال کرتے ہوئے ان کمپنیوں کے خلاف سخت تادیبی کارروائی کرے تاکہ صحت عامہ سے کھلواڑ بند ہو۔ یہاں اس بات کا تذکرہ ضروری ہے کہ گوونڈی ممبئی کے مضافاتی علاقوں میں تیزی سے ترقی کرنے والا علاقہ ہے جو کسی زمانے میں اپنی جھگی جھونپڑیوں کیلئے جانا جاتا تھا لیکن سرکاری مذبح خانہ کے قیام کے بعد یہاں کی آبادی میں ا ضافہ ہونا شروع ہوگیا۔ یہ ممبئی کی لائف لائن سمجھی جانے والی لوکل ٹرینوں میں ہاربر لائن سے جڑا ہوا اسٹیشن ہے جہاں اب اونچے اونچے ٹاورس تعمیر ہوچکے ہیں۔ مانخورد، چمہبور، کرلا، واشی اور پنویل جانے والی لوکل ٹرینیں یہاں توقف کرتی ہیں لیکن سمنٹ پلانٹ کے قیام نے یہاں کے ساکنوں کو تشویش میں مبتلا کردیا ہے اور اسی ایشو کو ثناء ملک نے آج اسمبلی میں اٹھایا۔
