بی آر ایس ارکان پر اسپیکر کی برہمی ، کوشک ریڈی کو معطل کرنے کی دھمکی

اسپیکر اسمبلی جی پرساد کمار نے بی آر ایس ارکان کی سرزنش کرتے ہوئے ایوان میں غیر پارلیمانی الفاظ اور حکومت پر الزام تراشی کے ذریعہ کارروائی میں رکاوٹ پیدا کرنے پر برہمی کا اظہار کیا۔ وقفہ سوالات کے دوران جب اوورسیز اسکالر شپ پر وزیر پنچایت راج ڈی انوسیا سیتکا جواب دے رہی تھیں اس وقت بی آر ایس کے کے پی ویویکانند نے حکومت پر اسکیمات میں 10 فیصد کمیشن حاصل کرنے کا الزام عائد کیا۔ بی آر ایس رکن کے الزام پر کانگریس ارکان نے سخت احتجاج کیا اور اسپیکر سے خواہش کی کہ متنازعہ ریمارکس کو ریکارڈ سے حذف کیا جائے۔ وزیر امور مقننہ سریدھر بابو نے بی آر ایس رکن سے الفاظ واپس لینے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ ایوان کے قواعد کے مطابق الزام تراشی سے قبل اسپیکر کو نوٹس دی جانی چاہیئے۔ بی آر ایس رکن اپنے موقف پر قائم رہے جس پر اسپیکر نے ناراضگی جتائی۔ اسی دوران بی آر ایس اور کانگریس ارکان کے دوران بحث و تکرار ہوئی اور ایوان میں شوروغل کے مناظر دیکھے گئے۔ بی آر ایس کے پی کوشک ریڈی نے حکومت کے خلاف بعض ریمارکس کئے جس پر دوبارہ ہنگامہ ہوا۔ اس موقع پر اسپیکر پرساد کمار نے کوشک ریڈی کو انتباہ دیا کہ اگر وہ اپنا رویہ ٹھیک نہیں کریں گے تو ایوان سے معطل کردیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ کوشک ریڈی کی عادت بن چکی ہے کہ متنازعہ ریمارکس کے ذریعہ ایوان کی کارروائی میں رکاوٹ پیدا کریں۔ اسپیکر نے بی آر ایس کے رکن کے ٹی آر سے مخاطب ہوکر سوال کیا کہ پارٹی کے نئے ارکان کو کیا سکھایا جارہا ہے۔ ہنگامہ آرائی کے بجائے ایوان کے قواعد سکھائے جائیں۔ گورنمنٹ وہپ اے سرینواس نے الزام عائد کیا کہ دس سال تک کالیشورم ، دلت بندھو، فارمولہ ای ریسنگ اور دیگر اسکیمات میں کمیشن کھانے والے بی آر ایس قائدین حکومت پر الزام تراشی کررہے ہیں۔ انہوں نے فون ٹیاپنگ اور دیگر اسکامس کا بھی حوالہ دیا۔ بی آر ایس اور کانگریس ارکان میں الزام و جوابی الزام کے تبادلے کو روکنے کیلئے اسپیکر پرساد کمار نے ویویکانند کے ریمارک کو ریکارڈ سے حذف کرنے کا اعلان کیا۔
