دماغی صحت کے مسائل وبا کی شکل اختیار کر رہے ہیں:صدرمرمو

صدرجمہوریہ دروپدی مرمو نے جمعہ کو کہا کہ دنیا بھر میں دماغی صحت سے متعلق مختلف قسم کے مسائل ایک وبا کی شکل اختیار کر رہے ہیں، لیکن امید کی بات یہ ہے کہ ذہنی صحت کے بارے میں بیداری بڑھنے سے متاثرین کیلئے مدد حاصل کرنا آسان ہوا ہے ۔شریمتی مرمو نے کہا کہ دماغ کے توازن کو متاثر کرنے والے زندگی کے اتار چڑھاؤ کو سمجھنے کیلئے ہمارے رشی منیوں اورسنتوں کی تعلیمات کی بنیاد پر کوئی روحانی اصول یا ڈھانچہ تیار کیا جا سکتا ہے ۔ صدر جمہوریہ بنگلور میں نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف مینٹل ہیلتھ اینڈ نیورو سائنسز کی گولڈن جوبلی تقریب سے خطاب کر رہی تھیں۔صدر نے کہا کہ صحت مند ذہن صحت مند معاشرے کی بنیاد ہے ۔ انہوں نے دماغی اور جسمانی تکالیف کو کم کرنے کیلئے صحت کی دیکھ بھال کے جدید نظاموں کے ساتھ یوگا جیسے روایتی طریقوں کو کامیابی کے ساتھ شامل کرنے کیلئے این آئی این ایچ اے این ایس کی تعریف کی۔ مرمو نے کہا کہ ہمارے قدیم رشیوں اور بزرگوں کی حکمت اور زندگی کے اسباق ہم سب کو ایک روحانی ڈھانچہ تیار کرنے میں مدد کر سکتے ہیں۔ جس کے اندر ہم زندگی کے ان اتار چڑھاؤ کو سمجھ سکتے ہیں جو دماغ کے توازن کو متاثر کرتے ہیں۔ ہمارے شاسترا ہمیں بتاتے ہیں کہ ہم دنیا میں جو کچھ دیکھتے ہیں اس کی جڑ میں دماغ ہی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ماضی میں بعض معاشروں میں ذہنی صحت کے مسائل اور خدشات پر خاطر خواہ توجہ نہیں دی جاتی تھی لیکن حالیہ دنوں ذہنی صحت کے بارے میں آگاہی بڑھ رہی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ دماغی امراض سے متعلق غیر سائنسی عقائد اور بدنما داغ اب ماضی کی بات ہے ۔صدر نے کہا کہ ذہنی بیماریوں کے بارے میں معاشرے کی سوچ میں یہ تبدیلی مختلف بیماریوں میں مبتلا لوگوں کے لیے مدد حاصل کرنا آسان ہوگیا ہے ۔ یہ خاص طورپر اس وقت ایک خوش آئند پیش رفت رہی ہے ، کیونکہ دنیا بھر میں مختلف قسم کے ذہنی صحت کے مسائل وبائی شکل اختیار کر رہے ہیں۔
