مرکز سے ریاست ِ تلنگانہ کو برائے نام فنڈس کی اجرائی

n6484877831737411321645436749fcef68892684d047885aed5fbf7ba98ac92da3c63156ef6caeab628148

مرکزی حکومت سے تلنگانہ کو برائے نام فنڈ وصول ہورہے ہیں۔ مرکز کی اسکیموں (سی ایس ایس) کے علاوہ گرانٹ کی شکل میں بھی ریاست کو کوئی بڑی رقم موصول نہیں ہوئی۔ موجودہ مالیاتی سال 2024-25ء میں مرکز سے تلنگانہ کو 21,636 کروڑ روپئے گرانٹ کی شکل میں وصول ہونے کا ریاستی بجٹ میں اندازہ لگایا گیا۔ پہلے 8 مہینے کے دوران (اپریل تا نومبر) صرف 4,634 کروڑ روپئے یعنی صرف 21% رقم ہی جاری ہوئی۔ گرانٹس کے فنڈس کی عدم اجرائی سے ریاست کے مالیاتی صورتحال پر بہت زیادہ دباؤ بڑھ گیا ہے۔ فلاحی اسکیموں پر عمل آوری ، قرض اور کی سود کی ادائیگی کیلئے ریاستی حکومت کو دوبارہ نئے قرض حاصل کرنا پڑ رہا ہے۔ ریاست تلنگانہ کو مرکزی حکومت کی جانب سے پسماندہ اضلاع کی ترقی کیلئے 1,800 کروڑ روپئے وصول طلب ہے۔ اس کی اجرائی کیلئے ریاستی حکومت کی جانب سے مرکز کو بار بار توجہ دلائی جاچکی ہے جس کے بعد مرکزی حکومت نے رواں سال صرف 450 کروڑ روپئے جاری کئے۔ مالیاتی کمیشن گرانٹس کے تحت ریاست کو 3,277.64 کروڑ روپئے حاصل ہونے کا اندازہ لگایا گیا تھا، لیکن 8 مہینوں کے دوران 2,819 کروڑ روپئے ہی جاری ہوئے۔ مرکز کے اسپانسرڈ اسکیمس (سی ایس ایس) سے جو ریاست کو رقم حاصل ہوتی ہے، وہ انتہائی اہمیت کی حامل ہوتی ہے، لیکن اس مد میں بھی کوئی قابل لحاظ رقم جاری نہیں کی گئی۔ چند سی ایس ایس اسکیموں کیلئے مرکز اپنے حصہ سے صرف 60% فنڈ جاری کرتا ہے۔ مابقی 40% ریاستی حکومت اپنے حصہ کے طور پر جمع کرتے ہوئے خرچ کرنا ہوتا ہے۔ صرف اس صورت میں جب استعمال سرٹیفکیٹ (یو سی) ، اخراجات کو صادر کرنے کیلئے مرکز کو بھیجے جاتے ہیں، جس کی بنیاد پر مرکزی حکومت مزید فنڈ جاری کرتی ہے، لیکن مرکزی حکومت نے ان اسکیموں کی فنڈنگ میں بھی کمی کردی ہے۔ ریاستی حکومت ، مرکز کی جانب سے آئندہ ماہ پارلیمنٹ میں پیش کئے جانے والے بجٹ میں ریاست کو مزید فنڈس فراہم کرنے کی توقع کررہی ہے۔ ریاستی حکومت نے اپنے باوقار پراجیکٹس، ریجنل رِنگ روڈ، فیوچر سٹی، موسیٰ ڈیولپمنٹ پراجیکٹ، میٹرو ریل کی توسیع کیلئے زیادہ سے زیادہ فنڈس مختص کرنے کی مرکزی حکومت سے نمائندگی کی ہے۔ حال ہی میں چیف منسٹر ریونت ریڈی نے اپنے دورۂ دہلی کے دوران مرکزی وزراء سے ملاقات کرتے ہوئے ریاست کو وصول طلب فنڈس کی اجرائی کیلئے تحریری طور پر نمائندگی کی ہے۔ فنڈس کی اجرائی میں تاخیر کے سبب ترقیاتی کام میں سست ہوجانے کی توجہ دلائی گئی ہے۔