یو جی سی قواعد میں تبدیلی دستور اور تہذیب پر حملہ کے مترادف: ریونت ریڈی

چیف منسٹر ریونت ریڈی نے الزام عائد کیا کہ مرکزی حکومت یونیورسٹی گرانٹس کمیشن کے ذریعہ تلنگانہ کی یونیورسٹیز پر کنٹرول حاصل کرنا چاہتی ہے۔ ریونت ریڈی نے کہا کہ یونیورسٹی گرانٹس کمیشن کے قواعد میں تبدیلی دراصل تہذیب پر حملہ ہے اور دستور ہند میں تبدیلی کی کوشش کی جارہی ہے۔ ریونت ریڈی آج ڈاکٹر بی آر امبیڈکر اوپن یونیورسٹی میں دستور ہند کے معمار ڈاکٹر بی آر امبیڈکر کے مجسمہ کی نقاب کشائی کے موقع پر خطاب کررہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ یونیورسٹی گرانٹس کمیشن کے قواعد میں تبدیلی دراصل ریاستی یونیورسٹیز پر کنٹرول حاصل کرنے کی سازش ہے۔ ڈاکٹر بی آر امبیڈکر نے دستور ہند میں مرکزی اور ریاستی حکومت کے اختیارات کے علاوہ دونوں کے مشترکہ امور کی نشاندہی کردی ہے۔ مرکزی حکومت یو جی سی قوانین میں تبدیلی کے ذریعہ ریاستی حکومت کے اختیارات کو سلب کرنے کی کوشش کررہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وائس چانسلرس کا تقرر ریاستی حکومت کی جانب سے کیا جاتا ہے لیکن قوانین میں تبدیلی کے ذریعہ مرکزی حکومت مستقبل میں ریاستی یونیورسٹیز کے وائس چانسلرس کا تقرر کرنا چاہتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ دہلی میں رہنے والے تلنگانہ عوام کے نظریات اور ان کے طرز زندگی سے واقف نہیں ہوسکتے۔ تعلیمی اداروں اور یونیورسٹیز پر کنٹرول حاصل کرنے کی کوشش دراصل ایک تہذیبی حملہ ہے۔ اس سازش کو ناکام بنانے کیلئے دانشور طبقہ کو متحد ہونا چاہیئے۔ چیف منسٹر نے بتایا کہ وہ یو جی سی قوانین میں تبدیلی کے مسئلہ پر ٹاملناڈو، کرناٹک، کیرالا اور آندھرا پردیش کے چیف منسٹرس سے عنقریب بات چیت کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ اگر ریاستی یونیورسٹیز کے وائس چانسلرس کا تقرر مرکز کی جانب سے کیا جاتا ہے تو کیا حکومت ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے گی۔ انہوں نے کہا کہ اگر اس معاملہ میں خاموش رہیں گے تو یہ تہذیب پر حملہ ہوگا۔ قواعد میں تبدیلی کے بعد ریاستی یونیورسٹیز بعض افراد کی تشہیر کے مراکز بن جائیں گی اور سماج کو توڑنے کا کام ہوگا۔ یونیورسٹیز کے ذریعہ تعلیم کو عام کرنے کے بجائے وہ تشہیر کا ذریعہ بن جائیں گے۔ چیف منسٹر نے کہا کہ یوم جمہوریہ کی 76 سالہ تقاریب کے موقع پر وہ وزیر اعظم نریندر مودی سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ یو جی سی قواعد میں تبدیلی سے گریز کریں کیونکہ یہ دستور پر حملہ کے مترادف ہے۔ انہوں نے کہا کہ ریاستوں اور عوام کے فیصلے کے نتائج بہتر نہیں ہوں گے اور ہمیں متحدہ طور پر جدوجہد کرنا پڑے گا۔ چیف منسٹر نے کہا کہ یو جی سی قواعد میں تبدیلی جمہوریت کی روح کے خلاف ہے، آپ کے بعد آنے والے وزرائے اعظم اختیارات کا مزید سختی سے استعمال کریں گے تو دستور باقی کہاں رہے گا۔ انہوں نے کہا کہ کافی غور و خوض کے بعد یونیورسٹی گرانٹس کمیشن کے قواعد تیار کئے گئے۔ چیف منسٹر نے کہا کہ ملک میں دستور کے تحفظ کو لے کر سرگرم مباحث جاری ہیں جو افسوسناک ہے۔ انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر بی آر امبیڈکر اوپن یونیورسٹی صرف سرٹیفکیٹ حاصل کرنے کیلئے نہیں ہے اور پی وی نرسمہا راؤ نے یونیورسٹی کی ترقی کی سماجی ذمہ داری کی تکمیل کی تھی۔ سماج کے مسائل یونیورسٹی کے ذریعہ حل کئے جاسکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یونیورسٹیز کو مستحکم کرنے کیلئے وائس چانسلرس کا تقرر کیا گیا ہے۔100 سالہ قدیم عثمانیہ یونیورسٹی کے وائس چانسلر کے طور پر دلت طبقہ سے تعلق رکھنے والے پروفیسر کا تقرر کیا گیا۔ وائس چانسلرس کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ ٹیچنگ اور نان ٹیچنگ اسٹاف کی مخلوعہ جائیدادوں پر تقررات کا عمل مکمل کریں۔ چیف منسٹر نے کہا کہ ریاستوں کے اختیارات ختم کئے جاتے ہیں تو پھر ریاست کے پاس ٹیکس کلکشن کے علاوہ کچھ نہیں رہے گا۔ وائس چانسلر پروفیسر جی چکرا پانی نے استقبال کیا۔
