اتراکھنڈ میں یکساں سیول کوڈ نفاد: چیف منسٹر

n649453734173803329561438f324d0110c67f8568d77c20b43e356daf1c00b4c17226956ddc5a74df84f88

یو سی سی نافذ کرنے والی پہلی ریاست ‘تمام کیلئے یکساں قانون کا دعویٰدہرادون :اتراکھنڈ میں پیر سے یکساں سیول کوڈ (یو سی سی) نافذ ہوگیا ہے۔ وزیر اعظم نریندر مودی کے اتراکھنڈ دورے سے ٹھیک پہلے دوپہر تقریباً 12.30 بجے اس قانون کو نافذ کر دیا گیا۔ اس قانون کے نافذ ہوتے ہی اترا کھنڈ یکساں سیول کوڈ نافذ کرنے والی ملک کی پہلی ریاست بن گیا ہے۔ افسروں کے مطابق یو سی سی کو پورے اتراکھنڈ میں نافذ کیا جائے گا۔ یہ قانون ریاست کے باہر رہنے والے اتراکھنڈ کے باشندوں پر بھی نافذ ہوگا۔ریاستی سکریٹریٹ میں آج یو سی سی پورٹل کا بھی آغاز ہوگیا جبکہ اس سے متعلق قواعد بھی جاری کردئے ہیں۔ اترا کھنڈ کے وزیر اعلیٰ پشکر سنگھ دھامی نے اس تقریب کی قیادت کی۔ 26 جنوری کو چیف منسٹر نے کہا تھا کہ یو سی سی مذہب، جنس، ذات یا فرقہ کی بنیاد پر امتیازی سلوک سے آزاد ایک ہم آہنگ معاشرہ کی بنیاد رکھے گا۔ اس موقع پر انہوں نے بتایا کہ یو سی سی نافذ کرنے کے لیے سبھی ضروری تیاریاں مکمل کر لی گئی ہیں۔ چیف منسٹردھامی نے کہا کہ یو سی سی سے سماج میں یکسانیت آئے گی اور سبھی شہریوں کے لیے یکساں حقوق و ذمہ داری یقینی ہوگی۔ انہوں نے آگے کہا کہ نریندر مودی کی قیادت میں ہم نے ریاست کے لوگوں سے 2022 کے اسمبلی انتخابات سے قبل یو سی سی لانے کا وعدہ کیا تھا۔ حکومت بننے کے بعد ہم نے اسے ترجیح دی۔ یو سی سی کا مسودہ تیار کیا گیا اور اس پر ایک قانون لایا گیا۔ اب ہم اس وعدے کو پوری طرح اور باضابطہ طور پر پورا کرنے جا رہے ہیں۔اس قانون کے نافذ ہونے کے بعد شادی کے رجسٹریشن سے لے کر طلاق تک سبھی دھرم اور مذہب کے لوگوں کیلئے قانون یکساں ہو جائیں گے۔ ساتھ ہی اتراکھنڈ میں لیو۔اِن۔ریلیشن شپ میں رہنے والے جوڑے کو بھی رجسٹریشن کروانا ہوگا۔ واضح ہو کہ ملک کی کئی سیاسی پارٹیوں، مذہبی تنظیموں اور مختلف اداروں نے اس قانون کی سخت مخالفت کی ہے اور اس کے نفاذ پر ناراضگی کا اظہار کیا ہے۔قابل ذکر ہے کہ مارچ میں دوبارہ اقتدار سنبھالتے ہی وزیر اعلیٰ پشکر سنگھ دھامی کی قیادت میں کابینہ کی پہلی ہی میٹنگ میں یکساں سیول کوڈ کی تجویز کو منظوری دیتے ہوئے اس کا مسودہ تیار کرنے کے لیے ماہرین کی کمیٹی کی تشکیل پر مہر لگائی تھی۔ سپریم کورٹ کی سبکدوش جج رنجنا پرکاش دیسائی کی صدارت میں 27 مئی 2022 کو ماہرین کی کمیٹی کی تشکیل کی گئی تھی۔