ہتھیاروں کی فراہمی پر نیتن یاہو نے ٹرمپ کا شکریہ ادا کیا

n65443985117410408891858e7e600eb1dbef49a4f07bbb658eaf7276ff88cafe985a1439d9dcb413f2b50b

اسرائیلی وزیرِ اعظم بنجمن نیتن یاہو نے ہتھیار بھیجنے پر امریکی صدر ڈونالڈٹرمپ کا شکریہ ادا کیا جس سے ”ایران کے محورِ مزاحمت کے خلاف کام ختم کرنے میں مدد ملے گی”۔ مذکورہ ہتھیار سابقہ بائیڈن انتظامیہ نے روک لیے تھے۔نیتن یاہو نے طویل عرصے سے ایران، اس کے جوہری پروگرام اور اس کے پراکسیز بشمول حماس کے خلاف اپنی مخالفت کا اظہار کیا ہے۔نیتن یاہو نے انگریزی میں ایک ویڈیو بیان میں کہا کہ ڈونالڈٹرمپ وائٹ ہاؤس میں اسرائیل کے سب سے بڑے دوست ہیں۔ انہوں نے ہمیں رکے ہوئے تمام گولہ بارود بھیج کر اس کا اظہار کیا ہے۔ اس طرح وہ اسرائیل کو وہ آلات دے رہے ہیں جن کی ہمیں ایران کے دہشت گردی محور کے خلاف اپنا کام ختم کرنے کی ضرورت ہے۔اسرائیلی رہنما نے گذشتہ ماہ ملک کا دورہ کرنے والے امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو کے ساتھ ایک نیوز کانفرنس میں ایسے ہی تبصرے کیے تھے کہ اسرائیل امریکہ کی حمایت سے ایران کے خلاف ”کام ختم” کر دے گا۔اس وقت نیتن یاہو نے تہران کے ”محورِ مزاحمت” کے بارے میں کہا کہ اسرائیل نے غزہ جنگ شروع ہونے کے بعد سے ”ایران کے دہشت گردی محور کو زبردست دھچکا” پہنچایا تھا۔ یہ گروہ بشمول لبنان کی حزب اللہ اور یمن کے حوثی اسرائیل اور امریکہ کے خلاف صف آراء ہیں۔امریکی رہنما نے اسرائیل کیلئے اپنی غیر متزلزل حمایت کا اظہار کیا اور گذشتہ ماہ نیتن یاہو کو اولین سربراہِ مملکت کے طور پر وائٹ ہاؤس کا دورہ کرنے کی دعوت دی تھی۔ہفتے کے روز وزیرِ خارجہ روبیو نے کہا کہ انہوں نے اسرائیل کو تقریباً چار بلین ڈالر کی فوجی امداد میں تیزی لانے کیلئے ایک اعلامیے پر دستخط کیے اور سابق صدر جو بائیڈن کے دور میں ہتھیاروں پر عائد کردہ جزوی پابندی کو تبدیل کر دیا گیا تھا۔