ٹرمپ کا ایران کو سخت انتباہ: جوہری معاہدہ کرو ورنہ بمباری کے لیے ہو جاو تیار

امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے ایران کو سخت تنبیہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر اس نے اپنے جوہری پروگرام پر معاہدہ نہ کیا تو امریکہ اس پر حملہ کر سکتا ہے۔ ٹرمپ نے ثانوی محصولات لگانے کی دھمکی بھی دی۔ اس کے جواب میں ایران نے اپنے میزائل لانچ کے لیے تیار کر لیے ہیں۔ ایک انٹرویو میں ٹرمپ نے کہا کہ اگر ایران معاہدے پر دستخط نہیں کرتا تو اسے ایسی بمباری کا سامنا کرنا پڑے گا جو اس نے پہلے کبھی نہیں دیکھی ہوگی۔ ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ اگر ایران مذاکرات کے لیے تیار نہ ہوا تو وہ پہلے کی طرح سخت اقتصادی پابندیاں عائد کر دیں گے۔ تاہم انہوں نے یہ واضح نہیں کیا کہ آیا امریکی اور ایرانی حکام کے درمیان کوئی بات چیت جاری ہے یا نہیں۔ امریکی حملے کا جواب دے گا ایران ایران نے کسی بھی امریکی حملے کا جواب دینے کے لیے اپنے میزائل تعینات کر دیے ہیں۔ ‘تہران ٹائمز’ کے مطابق تمام زیر زمین میزائل شہر مکمل طور پر فعال ہو چکے ہیں۔ تہران ٹائمز نے ‘X’ پر پوسٹ کیا اگر امریکہ پنڈورا باکس کھولتا ہے تو اسے بھاری قیمت چکانا پڑے گی۔ 12 مارچ کو، ٹرمپ نے یو اے ای کے ایلچی کے ذریعے ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کو ایک خط بھیجا، جس میں جوہری پروگرام پر نئے مذاکرات کی تجویز پیش کی گئی۔ لیکن ایرانی صدر مسعود پازکیان نے اسے مسترد کر دیا۔ انہوں نے کہا کہ ہم امریکہ سے براہ راست مذاکرات نہیں کریں گے۔ 26 مارچ کو ایران نے اپنے تیسرے زیر زمین میزائل شہر کی ویڈیو جاری کی۔ اس میں خیبر شیکن، قادر ایچ، سیجیل اور پاوہ زمین پر حملہ کرنے والے کروز میزائل جیسے خطرناک میزائلوں کی نمائش کی گئی۔ اطلاعات کے مطابق یہ اسرائیل پر حالیہ حملے میں استعمال ہوئے تھے۔ امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی کیوں ہے؟ 1953 میں امریکہ اور برطانیہ نے ایران میں بغاوت کی اور شاہ رضا پہلوی کو اقتدار میں لایا۔ 1979 میں، آیت اللہ خمینی کی قیادت میں امریکہ مخالف تحریک نے شدت اختیار کی۔ 1979-81 کے درمیان ایرانی طلباء نے امریکی سفارت خانے پر قبضہ کر لیا اور 52 امریکیوں کو 444 دنوں تک یرغمال بنائے رکھا۔ امریکہ اور ایران کے درمیان 2015 میں جوہری معاہدہ ہوا تھا لیکن ٹرمپ نے 2018 میں اسے منسوخ کر دیا جس کی وجہ سے یہ کشیدگی برقرار بنی ہوئی ہے۔
