نرمل میں نو منظور شدہ وقف ترمیمی قانون 2025 کے خلاف مسلمانوں کا شدید احتجاج

شہر نرمل میں آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کی ہدایت پر 56 مساجد میں بعد نماز جمعہ نو منظور شدہ وقف ترمیمی قانون 2025 کے خلاف مسلمانوں نے اپنے بازؤں پر سیاہ پٹیاں باندھ کر شدید احتجاج کیا۔احتجاجیوں نے کہا مرکزی حکومت نے ناپاک عزائم کے ساتھ وقف جائیدادوں کو ہڑپنے کے مقصد سے سیاہ قانون بنایا۔جس کے خلاف ملک بھر میں احتجاجوں کے سلسلہ جاری ہے۔اس کے ایک حصہ کے طور پر نرمل شہر میں بھی احتجاج کیا گیا۔ جس میں ہزاروں مسلمانوں نے حصہ لیااور مرکزی حکومت کے رویہ پر شدید برہمی کا اظہار کیا۔انھوں نے الزام لگایا کہ مرکز مسلمانوں کے خلاف گھیرا تنگ کررہی ہے۔ انھوں نے بتایا کہ کئی مسلمانوں نے اپنی قیمتی اراضیات اللّٰہ کے لئے وقف کی تھی جس کو آج برباد کرنے کے لئے مرکزی حکومت کوشاں ہے۔ مسلمانوں نے کہاکہ مرکز کالا قانون واپس لینے تک احتجاج کرتے رہیں گے اور احتجاج کی مزید شدت پیدا کی جائے گی۔جامع مسجد، گلزار مسجد، سلیم، مسجد تاج، مسجد شجاعت، مسجد بلال، مکہ مسجد، عثمانیہ مسجد، مسجد خیرالنسا ،مسجد یحییٰ ،مسجد اظہر، مدینہ مسجد، مسجد عرفات، مسجد عثمان بدر، مسجد زھرا، مسجد مستانیہ اور دیگر مساجد میں بھی بعد نماز جمعہ شدید احتجاج کیا گیا،جس میں سیاسی، سماجی اور دیگر تنظیموں سے وابستہ قائدین اور مسلمانوں کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔
