’فلسطین کو آزاد کرو‘ برطانیہ کے کنسرٹ میں گلوکاروں کے نعرے

برطانیہ میں گلاسٹنبری فیسٹیول 2025 نہ صرف اپنی موسیقی بلکہ گلوکاروں اور ہجوم کی طرف سے فلسطین کے حق میں گونجنے والے نعروں کی وجہ سے میڈیا میں بڑی سرخیاں بنا رہا ہے۔میڈیاکے مطابق آئرش ریپ گروپ ’نی کیپ‘ نے فیسٹیول کے سب سے بڑے ہجوم کو اپنی طرف متوجہ کیا۔ بینڈ کے ناقدین کے کلپس کے آڈیو مونٹیج کے ساتھ شو کا آغاز ہوا اور اس کے بعد ہجوم میں درجنوں فلسطینی جھنڈے لہرائے گئے۔پرفارمنس کے دوران بینڈ کے ممبران نے ’فلسطین کو آزاد کرو‘ اور ’مو چارا کو آزاد کرو‘ کے نعرے لگائے۔ انہوں نے برطانیہ کے وزیراعظم کیئرا سٹارمر پر ایک مبہم نعرہ کسا جنہوں نے کہا تھا کہ ان کے خیال میں نی کیپ کا گلاسٹنبری کنسرٹ کرنا ’مناسب‘ نہیں تھا۔ایک ممبر نے ٹی شرٹ پہن رکھی تھی جس پر ’ہم سب فلسطین ایکشن ہیں‘ لکھا تھا جو ایسے نیٹ ورک کا حوالہ تھا جو ایسی اسلحہ ساز فیکٹریوں کو نشانہ بناتا ہے جو اسرائیل کو ہتھیار فراہم کرتی ہیں۔دن کے آغاز میں پنک ڈْوو باب وائلن نے بھی ایک پرفارمنس میں اسرائیلی فوج کے خلاف ’ڈیتھ ٹو آئی ڈی ایف‘ (آئی ڈی ایف کو موت) کا نعرہ لگا کر تنازعہ کھڑا کیا۔اس کے بعد پولیس کی تفتیش کا آغاز ہوا اور لائیو پرفارمنس میں اظہار رائے کی آزادی کی حدود پر ایک بحث نے جنم لیا۔فیسٹیول کے دوران فلسطینی جھنڈے ہر سمت دکھائی دے رہے تھے جو فنکاروں اور ہجوم کی طرف لہرائے گئے اور ٹی شرٹس اور پوسٹرز پر پرنٹ کیے گئے تھے۔پروجیکٹر کے ذریعے غزہ کی تباہی دکھائی گئی جس نے ایپوکلپس میوزیم کے علاقے میں پیدل چلنے والوں کو اپنی طرف متوجہ کیاجبکہ متعدد فنکاروں نے فوری جنگ بندی کا مطالبہ کرتے ہوئے ایک کھلا خط تقسیم کیا.
