تلنگانہ کابینہ کا آج اجلاس، کالیشورم تحقیقاتی رپورٹ پر فیصلے کا امکان

کالیشورم پراجکٹ کی تعمیر میں بے قاعدگیوں سے متعلق جسٹس پی سی گھوش کمیشن کی رپورٹ کل 4 اگست کو تلنگانہ ریاستی کابینہ کے اجلاس کا اہم موضوع رہے گی۔ جسٹس پی سی گھوش نے کمیشن کی میعاد کے آخری دن تحقیقاتی رپورٹ حکومت کو پیش کردی جس میں سابق بی آر ایس حکومت میں شامل سیاسی قائدین و اعلیٰ عہدیدار کے یکطرفہ فیصلوں کی نشاندہی کی گئی۔ حکومت نے کمیشن کی رپورٹ کا جائزہ لیتے ہوئے ایک جامع نوٹ پیش کرنے کے لئے 3 اعلیٰ عہدیداروں پر مشتمل کمیٹی تشکیل دی ہے۔ یہ کمیٹی کمیشن کی رپورٹ کا جائزہ لیتے ہوئے سفارشات کی حکومت کو نشاندہی کرے گی۔ پی سی گھوش کمیشن نے کالیشورم پراجکٹ کے علاوہ تین علیحدہ بیاریجس کی تعمیر میں مبینہ بے قاعدگیوں کی جانچ کی تھی۔ کمیشن نے 150 سے زائد سیاسی قائدین اور اعلیٰ عہدیداروں کو طلب کرتے ہوئے ان پر جرح کی۔ کابینہ میں جسٹس گھوش کی سفارشات کا جائزہ لیتے ہوئے کارروائی سے متعلق فیصلہ کیا جائے گا۔ توقع ہے کہ کابینہ کے اجلاس میں جسٹس لوکور کمیشن کی رپورٹ کا بھی جائزہ لیا جائے گا۔ سابق بی آر ایس دور حکومت میں کئے گئے برقی خریدی معاہدات کی جانچ کے لئے قائم کردہ جسٹس لوکور کمیشن نے اپنی رپورٹ گزشتہ سال اکتوبر میں پیش کردی تھی۔ کمیشن کی رپورٹ اور سفارشات تاحال برسر عام نہیں ہوئی ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ کمیشن نے برقی خریدی معاہدات میں بے قاعدگیوں کی نشاندہی کی۔ کابینہ مجالس مقامی میں 42 فیصد تحفظات کی فراہمی کا جائزہ لے گی۔ حکومت نے پنچایت راج قانون 2018 میں ترمیم کرتے ہوئے آرڈیننس کی اجرائی کا فیصلہ کیا تاہم آرڈیننس سے متعلق فائل گورنر جشنودیو ورما کے پاس زیر التواء ہے۔ سابق میں اسمبلی میں منظورہ دو علیحدہ بلز صدر جمہوریہ کی منظوری کے منتظر ہیں۔ کابینہ میں 5 تا 7 اگست نئی دہلی کے پروگرام کا جائزہ لیا جائے گا۔ چیف منسٹر ریونت ریڈی، ریاستی وزراء اور اسمبلی اور کونسل کے تمام عوامی نمائندے بی سی تحفظات کی منظوری کے لئے مرکز پر دباؤ بنانے 3 دن دہلی میں قیام کریں گے۔ امکان ہے کہ مرکز کی جانب سے تحفظات بلز کی عدم منظوری کی صورت میں پارٹی کی سطح پر 42 فیصد ٹکٹ پسماندہ طبقات کو الاٹ کرنے کا فیصلہ کیا جائے گا۔ تلنگانہ ہائی کورٹ کی ہدایت کے مطابق حکومت کو ستمبر کے اختتام تک مجالس مقامی کے انتخابات کو مکمل کرنا ہے۔ باوثوق ذرائع کے مطابق کابینہ کالیشورم تحقیقاتی رپورٹ کو مزید جانچ کے لئے اینٹی کرپشن بیورو یا سی آئی ڈی کے حوالہ کرے گی۔ کمیشن کی رپورٹ کی پیشکشی کے بعد سے سیاسی حلقوں اور خاص طور پر بی آر ایس میں ہلچل دیکھی جارہی ہے۔ کمیشن کی رپورٹ کی بنیاد پر کے سی آر اور دیگر بی آر ایس قائدین کے خلاف کارروائی کے امکانات کو دیکھتے ہوئے بی آر ایس نے اپنی حکمت عملی طے کرنا شروع کردیا ہے.
