ٹمریز میں پی آئی او کا تبادلہ کردیا گیا ‘ آر ٹی آئی کا جواب دینے پر کارروائی

صحافت نے جب آئینہ دکھانا شروع کیا تو نااہل و ناکام نائب صدرنشین ٹمریز نے اپنے گریبان میں جھانکتے ہوئے پبلک انفارمیشن آفیسر کا ہی تبادلہ کردیا اور قانون حق آگہی کے تحت تفصیلات فراہم کرنے والے افسر کی جگہ اپنے پسندیدہ شخص کے تقرر کے احکام جاری کردیئے ہیں۔ذرائع ابلاغ بالخصوص روزنامہ سیاست میں شائع خبر پر قانونی کاروائی کا ’انتباہ ‘ دینے والے ناتجربہ کار نائب صدرنشین نے اپنے منصب کابیجا استعمال کرتے ہوئے پبلک انفارمیشن آفیسر سے ذمہ داری چھین لی اور ان کی جگہ ایم اے قیوم اسسٹنٹ سیکریٹری کو پی آئی او کی ذمہ داری دی گئی ہے جبکہ محترمہ زبیدہ النساء بیگم ڈپٹی سیکریٹری ٹمریز کو مجاز عہدیدار کی ذمہ داری تفویض کرنے احکام جاری کئے ہیں۔ خواجہ فرید الدین کنسلٹنٹ کو اسسٹنٹ پبلک انفارمیشن آفیسر کی ذمہ داری تفویض کی گئی جبکہ معین الدین کو کنسلٹنٹ نامزد کیاگیا ہے۔ٹمریز میں عہدیداروں کی جانب سے متعدد مرتبہ آرٹی آئی کے تحت طلب تفصیلات کو مخفی رکھنے اقدامات کئے جاتے رہے ہیں اور کئی برسوں سے ٹمریز کے تختۂ حساب ‘ تقررات کے علاوہ خانگی افراد کو ملازمت اور ان کی تعلیمی قابلیت و اہلیت متعلق طلب کردہ تفصیلات کو دینے سے گریز کیا جاتا رہا ہے لیکن اب جبکہ مخلوعہ جائیدادوں کے سلسلہ میں PIO نے درخواست گذار کو تفصیلات فراہم کی ہیں تو اسے نائب صدرنشین کے عتاب کا سامنا کرنا پڑرہا ہے ۔ چیف منسٹر ریونت ریڈی سے قربت اور تعلقات کے سبب کانگریس قائدین جو ان کے خلاف لب کشائی سے گریز کر رہے تھے ان میں بھی اب حوصلہ پیدا ہونے لگا ہے اور وہ بھی ان کی مخالفت کرتے ہوئے پارٹی اعلیٰ قائدین سے شکایت کرنے لگے ہیں۔بتایاجاتا ہے کہ نااہل نائب صدرنشین کے ٹمریز میں تقرر کو بھی چیالنج کرنے کا جائزہ لیا جا رہاہے ۔کانگریس اقلیتی قائدین ’سرکار‘ سے خوش نہیں ہیںاور اس کی محکمہ اقلیتی بہبود کے اداروں میں بیجا مداخلت پر بھی شدید ناراضگی کا اظہار کرنے لگے ہیں اور کہہ رہے ہیں کہ جلد ہی اقلیتی قائدین کا وفد چیف منسٹر اور صدر پردیش کانگریس کے علاوہ اے آئی سی سی انچارج سیکریٹری محترمہ میناکشی نٹراجن سے ملاقات کرے گا۔
