تعمیراتی کاموں پر کسی بھی قسم کا سمجھوتہ نہ کیا جائے

ضلع ناگرکرنول کے حلقہ اسمبلی کولّا پور کے حدود میں واقع پالامورو۔ رنگا ریڈی لفٹ اریگیشن اسکیم کے تحت نارلا پور پیکیج 2اور پیکیج 3نہروں کی تعمیراتی کاموں کی پیش رفت کا ریاستی وزیر اعلیٰ ریونت ریڈی نے جمعہ کے روز جائزہ لیا۔ اس موقع پر ریاستی وزراء اُتم کمار ریڈی ، جوپلّی کرشنا رائو اور کاٹی سری ہری نے وزیر اعلیٰ کے ہمراہ نہروں کی تعمیراتی سرگرمیوں کا معائنہ کیا اور جاری کاموں کی پیش رفت کے بارے میں متعلقہ حکام سے معلومات حاصل کیں۔ مشترکہ محبوب نگر ضلع کے آبپاشی منصوبوں کا دو روزہ جائزہ لینے کے سلسلے میں دورے پر آئے چیف منسٹر ریونت ریڈی نے ضلع ناگرکرنول کے کُمّیرا گاؤں کے قریب واقع وٹّم پمپ ہاؤس کے تیسری لفٹ کا بھی معائنہ کیا۔ وزیر اعلیٰ نے ایس جے آر پی آر ایل آئی ایس (پالامورو۔رنگا ریڈی لفٹ اریگیشن اسکیم) کے تحت جاری منصوبے کے کاموں کی پیش رفت کا جائزہ لیا ۔ حکام نے وزیرِ اعلیٰ کو بتایا کہ سال 2020 سے 2023 تک اس منصوبے پر 3300 کروڑ روپے خرچ کیے گئے، جبکہ 2023 سے اب تک مزید 800 کروڑ روپے صرف کرتے ہوئے تعمیراتی کام جاری رکھا گیا ہے۔ باقی ماندہ سول ورک کو 90 کروڑ روپے کی لاگت سے آئندہ تین ماہ میں مکمل کر لیا جائے گا۔ حکام کے مطابق یہاں مجموعی طور پر 10 پمپ نصب کیے جانے ہیں، جن میں سے 5 پمپ نصب کرکے کامیاب ٹرائل رن مکمل کیا جا چکا ہے۔ بارشوں کے موسم میں پانی دستیاب ہوتے ہی لفٹ اریگیشن کے ذریعے پانی کو وینکٹادری ریزروائر تک پہنچایا جائے گا۔ انہوں نے بتایا کہ اس ریزروائر کی مجموعی گنجائش 16.74 ٹی ایم سی ہے اور معیاری آپریشنل نظام (Standard Operation System) کے تحت مرحلہ وار اسے بھرنے کا منصوبہ ہے۔ وزیرِ اعلیٰ نے کہا کہ پالامورو۔رنگا ریڈی لفٹ اریگیشن اسکیم کے ذریعے مجموعی طور پر 12 لاکھ 30 ہزار ایکڑ اراضی کو آبپاشی کا پانی فراہم کرنے کی تجویز ہے۔ اس کے علاوہ محبوب نگر، ناگرکرنول، رنگا ریڈی اور نلگونڈہ اضلاع کے عوام کو پینے کے پانی اور صنعتی ضروریات کے لیے بھی پانی فراہم کیا جائے گا۔ ضروریات کو پورا کرنے کے لیئے پُر عزم ہے۔ انہوں نے متعلقہ حکا م کا ہداہت دی کہ تعمیراتی کاموں کے معیار پر کسی قسم کا سمجھوتہ کئے بغیر انہیں تیز رفتاری سے مکمل کیا جائے۔ اس دورے میں عوامی نمائندوں ، محکمہ آبپاشی کے اعلیٰ عہدیداروں اور انجینئر نگ محکمہ کے افسران نے شرکت کی۔
