پارٹی اور سرکاری عہدوں پر تقررات کیلئے ہائی کمان کی سطح پر سرگرمیاں

Natarajan-Revanth

پردیش کانگریس کمیٹی کے اہم عہدوں کے علاوہ سرکاری نامزد عہدوں پر تقررات کے سلسلہ میں کانگریس ہائی کمان نے مشاورت کا عمل تیز کردیا ہے۔ اُمید کی جارہی ہے کہ قائدین کو نئے سال کے تحفہ کے طور پر پارٹی اور سرکاری عہدے الاٹ کئے جائیں گے۔ صدر پردیش کانگریس مہیش کمار گوڑ اور تلنگانہ انچارج میناکشی نٹراجن نے پردیش کانگریس کمیٹی کے ورکنگ پریسیڈنٹس اور سرکاری نامزد عہدوں کے سلسلہ میں چیف منسٹر ریونت ریڈی سے مشاورت کی ہے۔ اسمبلی اور لوک سبھا انتخابات میں کانگریس امیدواروں کی کامیابی میں اہم رول ادا کرنے والے قائدین کی نشاندہی کی گئی تاکہ اُنھیں مختلف کارپوریشنوں میں ڈائرکٹر کے عہدہ پر فائز کیا جاسکے۔ ذرائع کے مطابق چیف منسٹر نے تقریباً 20 کارپوریشنوں اور بورڈس کی نشاندہی کی ہے جن پر سرگرم کانگریس کارکنوں کو نامزد کیا جاسکتا ہے۔ پردیش کانگریس کمیٹی میں ورکنگ پریسیڈنٹس کے 4 عہدوں پر تقررات کے لئے امکانی ناموں کی فہرست ہائی کمان کو روانہ کردی گئی ہے۔ چیف منسٹر اور پردیش کانگریس کمیٹی نے اپنے اپنے سفارشی نام ہائی کمان کے حوالہ کئے۔ اطلاعات کے مطابق ورکنگ پریسیڈنٹ کے عہدہ کے لئے روہن ریڈی، سمپت کمار اور بلرام نائک کے ناموں کو تقریباً قطعیت دی جاچکی ہے۔ چوتھے نام کے طور پر بعض اقلیتی قائدین زیرغور ہیں کیوں کہ ورکنگ پریسیڈنٹ کے عہدہ پر ایک مسلمان کو مقرر کئے جانے کی روایت موجود ہے۔ ذرائع کے مطابق اظہرالدین کی جگہ نئی پردیش کانگریس کمیٹی عاملہ میں نمائندگی کے لئے عظمت اللہ حسینی، فہیم قریشی کے نام ہائی کمان کو پیش کئے گئے۔ ہائی کمان کا فیصلہ اِس بارے میں قطعی رہے گا۔ پردیش کانگریس کمیٹی کے سکریٹریز کے لئے بھی وزراء اور ارکان اسمبلی سے ناموں کی سفارشات حاصل کی گئی ہیں۔ حکومت کے 2 سال کی تکمیل کے باوجود کئی سرگرم قائدین پارٹی اور سرکاری عہدوں سے تاحال محروم ہیں۔ میناکشی نٹراجن نے ہائی کمان کو قائدین میں پائی جانے والی بے چینی سے واقف کراتے ہوئے تجویز پیش کی ہے کہ نئے سال کے آغاز سے قبل مخلوعہ عہدوں کو پُر کیا جائے۔ ضلع کانگریس کمیٹی کے صدور کے تقررات کے باوجود کئی اضلاع میں ناراضگیاں برقرار ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ پارٹی ہائی کمان نے نئے صدور کو اپنی کارکردگی ثابت کرنے کے لئے 6 ماہ کی مہلت دی ہے۔ بنیادی سطح پر پارٹی کا استحکام اور تمام گروپس کو ساتھ لے کر چلنے کی ذمہ داری نئے ضلع صدور پر عائد کی گئی ہے۔ میناکشی نٹراجن نے واضح کردیا کہ 6 ماہ میں کارکردگی بہتر نہ ہونے کی صورت میں تبدیل کیا جاسکتا ہے۔