جی ایچ ایم سی حدود میں آئندہ دنوں پانی کی قلت کا امکان

مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کے حدود میں شہری جاریہ موسم گرما کے دوران کم از کم 20 فیصد پانی کی بچت کو یقینی بنائیں تاکہ انہیں آئندہ دنوں کے دوران پانی کی قلت کے مسائل سے نمٹنے میں کسی بھی طرح کی مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ محکمہ آبرسانی کے عہدیداروں نے اس بات کی توثیق شروع کردی ہے کہ دونوں شہروں کے کئی علاقوں میں پینے کے پانی کی قلت پیدا ہونے لگی ہے اور آئندہ دنو ںمیں پانی کی قلت میں مزید اضافہ کا خدشہ ہے کیونکہ دونوں شہروں میں زیر زمین سطح آب میں بھی مسلسل گراوٹ ریکارڈ کی جا رہی ہے اور آئندہ کمزور مانسون کی پیش قیاسی نے صورتحال کو مزید ابتر بنادیا ہے اسی لئے محکمہ آبرسانی کے عہدیداروں نے عوام میں شعور بیداری کے ذریعہ انہیں پانی کی بچت کے طریقہ کار سے واقف کروانے کا فیصلہ کیا ہے کہ تاکہ زیر زمین سطح آب میں جاری گراوٹ کو روکنے کے ساتھ ساتھ نلوں کے ذریعہ سربراہ کئے جانے والے پانی کے استعمال میں احتیاط کو یقینی بنایا جاسکے۔ محکمہ آبرسانی کی جانب سے فراہم کی جانے والی تفصیلات کے مطابق ماہ مارچ کے دوران محکمہ آبرسانی کے ٹینکرس نے جملہ 2لاکھ 24ہزار 421 چکر لگائے ہیں مطلب 2لاکھ24 ہزار سے زائد مقامات پر ٹینکرس سربراہ کئے گئے ہیں اس کے علاوہ اگر جاریہ ماہ کے اعداد و شمار کا جائزہ لیا جائے تو اس بات کا پتہ چلتا ہے کہ 12اپریل تک 95ہزار 454 مقامات پر ٹینکرس کی سربراہی کی جاچکی ہے اور نصف سے زائد مہینہ گذرنا باقی ہے۔بتایاجاتاہے کہ منی کنڈہ ‘ حفیظ پیٹ ‘ بنجارہ ہلز ‘ کے علاوہ مدینہ گوڑہ ‘ گچی باؤلی اور جوبلی ہلز کے علاقوں میں بھی ٹینکرس کی طلب میں اضافہ ریکارڈ کیا جانے لگا ہے اور پرانے شہر کے بھی بعض علاقوں میں پانی کی قلت کے نتیجہ میں ٹینکرس کی طلب میں اضافہ ریکارڈ کیا جانے لگا ہے۔ دونوں شہروں حیدرآباد وسکندرآباد میں پینے کے پانی کو محفوظ رکھنے کے لئے فوری طور پر اقدامات نہیں کئے جاتے ہیں اور عوام میں شعور بیدار کرنے کی مہم چلاتے ہوئے پانی کی اہمیت کا اندازہ نہیں کروایا جاتا ہے تو ایسی صورت میں شہریوں کو موسم گرما کے اختتام تک انتہائی سنگین صورتحال کا سامنا کرنا پڑے گا۔ بتایا جاتاہے کہ پانی کی قلت کو دور کرنے کیلئے محکمہ آبرسانی کے ذریعہ پینے کے پانی کی سربراہی کو یقینی بنایا جا رہا ہے لیکن اب جبکہ زیر زمین سطح آب میں گراوٹ ریکارڈ کی جانے لگی ہے تو کہا جار ہاہے کہ آئندہ چند یوم کے دوران بورویل کے ناکارہ ہونے کی شکایات بھی موصول ہونے لگیں گی۔
