چیف منسٹر کے بھائی اور خسر کو تلنگانہ ہائی کورٹ کی نوٹس

تلنگانہ ہائی کورٹ کی جسٹس پی کارتک نے نانک رام گوڑہ کی دو ایکر اراضی کے معاملہ میں جوں کا توں موقف برقرار رکھنے کی حکومت کو ہدایت دی۔ یہ اراضی رجسٹریشن اینڈ اسٹامپ ڈپارٹمنٹ کی ممنوعہ فہرست میں شمولیت کے باوجود رجسٹریشن کیا گیا ہے۔ جسٹس کارتک نے محکمہ اسٹامپ اینڈ رجسٹریشن کے علاوہ ڈسٹرکٹ ریونیو حکام کو نوٹس جاری کرتے ہوئے جوابی حلف نامہ داخل کرنے کی ہدایت دی۔ عدالت نے دو خانگی افراد کو بھی نوٹس جاری کی جن میں ایس پدما ریڈی اور اے کنڈل ریڈی شامل ہیں جو علی الترتیب چیف منسٹر ریونت ریڈی کے خسر اور حقیقی بھائی ہیں۔ ایک خانگی ادارہ کی جانب سے تلنگانہ ہائی کورٹ میں درخواست دائر کی گئی جس میں کہا گیا ہے کہ سروے نمبر 75 کے تحت اراضی متنازعہ ہے اور گزشتہ سال ہائی کورٹ نے واضح احکامات جاری کئے تھے باوجود اس کے اراضی کا رجسٹریشن کیا گیا۔ درخواست گذار نے بتایا کہ یہ اراضی ممنوعہ فہرست میں شامل ہیں باوجود اس کے چند ہفتے قبل رجسٹریشن حکام نے سیل ڈیڈ کی اجازت دی۔ گزشتہ سال سری رام بھاسکر نامی شخص نے عدالت نے درخواست داخل کرتے ہوئے اراضی کو ممنوعہ فہرست سے نکالنے کی اپیل کی تھی جس پر عدالت نے حکام سے کہا تھا کہ اس معاملہ کی شفاف سماعت کریں۔ درخواست گذار نے بتایا کہ معاملہ کی یکسوئی کے بغیر ہی جوائنٹ رجسٹرار رنگاریڈی نے 2 مارچ کو رجسٹریشن کی تکمیل کی۔ جسٹس کارتک نے 11 جون کو آئندہ سماعت مقرر کی ہے۔
