دونوں شہروں میں پانی کے ٹینکرس کی طلب میں بے تحاشہ اضافہ

دونوں شہروں حیدرآباد وسکندرآباد میں پانی کی ٹینکرس کی طلب میں بے تحاشہ اضافہ ریکارڈ کیا جانے لگا ہے اور زیر زمین پانی کی قلت کے نتیجہ میں ٹینکرس کی طلب میں ہونے والے اضافہ کو دیکھتے ہوئے ٹینکرس کو بھرنے کے مقامات میں اضافہ کیا جانے لگا ہے۔ بتایا جاتاہے کہ شہر حیدرآباد میں جہاں یومیہ 2تا 3 ہزار پانی کے ٹینکرس کی ضرورت پڑتی تھی اب ان علاقوں میں 7ہزار تا 10 ہزار پانی کے ٹینکرس کی بکنگ وصول ہونے لگی ہے جو کے شہر کے 35فلنگ اسٹیشن کے ذریعہ سربراہ کئے جارہے ہیں۔ محکمہ آبرسانی کے عہدیدار نے بتایا کہ درگم چیروو‘ گچی باؤلی ‘ نظام پیٹ‘ مادھاپور‘ حفیظ پیٹھ ‘ منی کنڈہ ‘ کوکٹ پلی کے علاوہ دیگر علاقوں میں جہاں ملٹی نیشنل کمپنیوں کے دفاتر کے علاوہ رہائشی عمارتیں موجود ہیں ان علاقوں میں ٹینکرس کی طلب میں اضافہ ریکارڈ کیا جانے لگا ہے۔عہدیداروں کے مطابق دونوں شہروں میں فروری سے ہی پانی کے ٹینکرس کی طلب میں اضافہ ریکارڈ کیا جانے لگا ہے اور کئی مقامات پر زیر زمین سطح آب میں ریکارڈ کی جانے والی گراوٹ کے نتیجہ میں بورویل ناکارہ ہونے لگے ہیں اسی لئے ہمہ منزلہ عمارتوں میں روزانہ کے اساس پانی کے ٹینکرس طلب کئے جا رہے ہیں۔شہر کے مذکورہ علاقوں کے علاوہ دیگر رہائشی علاقوں میں بھی پانی کی قلت ریکارڈ کئے جانے کے نتیجہ میں شہریوں کو سنگین مسائل کا سامنا کرنا پڑرہا ہے اور ملٹی نیشنل کمپنیوں کے علاوہ ہاسٹلس ‘ خانگی اداروں کے علاوہ دیگر مقامات پر خانگی پانی کے ٹینکرس من مانی قیمتوں میں فروخت کئے جا رہے ہیں۔ محکمہ آبرسانی کی جانب سے ٹینکرس کی سربراہی کے معاملہ میں کہا جا رہاہے کہ شہریوں کو ٹینکرس کی بکنگ کے بعد ممکنہ حد تک جلد سے جلد ٹینکرس کی سربراہی کو یقینی بنانے کی کوشش کی جارہی ہے اور جلد ہی شہر کے مختلف مقامات پر 10نئے فلنگ اسٹیشن قائم کرنے کی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے تاکہ موسم گرما کے دوران پانی کی قلت پر قابو پانے کے اقدامات میں کسی بھی طرح کی کوتا ہی نہ ہو۔
