کے سی آر کی میدان سیاست میں دھماکہ دار واپسی کا منصوبہ

TOP-16

تلنگانہ میں اچانک سیاسی سرگرمیاں تیز ہوگئی ہیں ۔ حکمران کانگریس اور تمام سیاسی جماعتیں ابھی سے آئندہ اسمبلی انتخابات کے لیے اپنے سیاسی ہتھیار تیز کرنا شروع کردئیے ہیں ۔ اس بدلتے سیاسی منظر نامے کے درمیان بھارت راشٹرا سمیتی کے سربراہ سابق چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ کی عوامی حلقوں میں سرگرم واپسی کو لے کر ایک بہت بڑی اور اہم اپ ڈیٹ سامنے آئی ہے ۔ بی آر ایس کے ڈپٹی فلور لیڈر اور سابق وزیر ٹی ہریش راؤ نے انکشاف کیا ہے کہ کے سی آر عام انتخابات سے ایک سال قبل یعنی 2027 میں پورے تلنگانہ میں ایک تاریخی بس یاترا شروع کرنے والے ہیں ۔ ایک معروف نیوز چینل کو دئیے گئے اپنے حالیہ اور سنسنی خیز انٹرویو میں ہریش راؤ نے کے سی آر کی خاموشی کا راز فاش کیا ۔ انہوں نے کہا کہ کے سی آر اب تک جان بوجھ کر خاموش تھے کیوں کہ وہ نئی کانگریس حکومت کو سنبھلنے اور کام کرنے کا پورا وقت دینا چاہتے تھے ۔ کانگریس حکومت کی نصف میعاد مکمل ہوچکی ہے اب وہ رعایتی وقت ختم ہوچکا ہے ۔ ہریش راؤ نے واضح کیا کہ اب کے سی آر عملی سیاست میں پوری طرح سرگرم ہونے جارہے ہیں ۔ عنقریب وہ تلنگانہ بھون میں اپنی موجودگی بڑھائیں گے ۔ عوامی تحریکوں کا حصہ بنیں گے اور اضلاع کے طوفانی دورے شروع کریں گے اور ساتھ ہی ریاست میں آئندہ اسمبلی انتخابات سے ایک سال قبل یعنی 2027 میں بس یاترا شروع کرتے ہوئے ریاست کے بیشتر اضلاع کا دورہ کریں گے ۔ پارٹی قائدین اور کیڈر سے ملاقات کرتے ہوئے تازہ سیاسی حالات کی بنیاد پر مستقبل کی حکمت عملی تیار کریں گے ۔ ریاست میں بدلتے ہوئے سیاسی حالات اور اپوزیشن جماعتوں کے ممکنہ اتحاد پر بات کرتے ہوئے ہریش راؤ نے کہا کہ اگر تلنگانہ میں بی جے پی ۔ تلگو دیشم اور جنا سینا پارٹی کے درمیان سیاسی اتحاد ہوتا ہے تو یہ بی آر ایس کے لیے ایک بہترین اور مثبت پہلو ثابت ہوگا ۔ ان کا ماننا ہے کہ اس اتحاد کی وجہ سے حکومت مخالف ووٹ تقسیم ہونے سے بچ جائیں گے ۔ جس کا براہ راست فائدہ بی آر ایس کو ہوگا اور انتخابی جنگ بالکل یکطرفہ ہوجائے گی ۔ ہریش راؤ نے کویتا کے ساتھ اختلافات اور بی آر ایس پر اس کے اثرات کے تعلق سے پوچھے گئے سوالات کا جواب دینے سے انکار کردیا ۔