مودی حکومت کا جھٹکا، اجولا گیس سبسیڈی میں کٹوتی

مرکز کی بی جے پی حکومت نے غریب اور متوسط طبقہ کے خاندانوں کو ایک بار پھر مہنگائی کا شدید جھٹکا دیا ہے ۔ ’’پردھان منتری اجولا یوجنا‘‘ کے تحت غریب خواتین کو دیئے جانے والے سبسیڈی سے مربوط ایل پی جی گیس سلینڈرس کی سالانہ تعداد میں مرکزی حکومت نے زبردست کٹوتی کردی ہے ۔ آئیل کمپنیوں کی جانب سے سامنے آنے والی اس تفصیل کے بعد اپوزیشن قائدین اور عوام میں سخت ناراضگی پائی جارہی ہے ۔ حیدرآباد میں اس وقت گھریلو استعمال کے 14.2 کیلو گرام والے ایل پی جی سلینڈر کی قیمت 994 روپئے ہے ۔ اجولا اسکیم کے تحت مستفید خواتین کو فی سلینڈر 300 روپئے کی مرکزی سبسیڈی ملتی ہے جس کی بدولت انہیں ایک سلینڈر 694 روپئے میں دستیاب ہوتا ہے ۔ اب تک اس اسکیم کے تحت صارفین کو سال میں 9 سلینڈر سبسیڈی کی قیمت پر حاصل کرنے کی اجازت تھی ۔ تاہم مرکزی حکومت کے نئے فیصلہ کے بعد اب یہ سبسیڈی سالانہ صرف 4 سلینڈرس تک ہی محدود رہے گی۔ اگر کوئی خاندان سال میں پانچواں سلینڈر خریدے گا تو اسے بغیر کسی سبسیڈی کے پوری قیمت 994 روپئے ادا کرنی ہوگی ۔ ماضی میں سالانہ 9 سلینڈرس پر 300 روپئے کی سبسیڈی ملنے سے ہر غریب خاندان کو سال میں 2700 روپئے کی بچت ہوتی تھی ۔ اب سبسیڈی کی حد صرف 4 سلینڈرس تک محدود ہونے کی وجہ سے باقی 5 سلینڈر پوری قیمت 994 روپئے میں خریدنے ہوں گے ۔ اس حساب سے اب اجولا اسکیم کے ہر خاندان کو سالانہ 1500 روپئے کا اضافی مالی بوجھ برداشت کرنا ہوگا ۔ مرکزی حکومت کے اس تازہ فیصلہ نے غریبوں کے گھریلو بجٹ کو مکمل طور پر الٹ پلٹ کر رکھ دیا ہے ۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ملک بھر میں اجولا اسکیم کے تحت مستفید ہونے والے افراد کی جملہ تعداد 10.57 کروڑ ہے۔ ہر خاندان پر پڑنے والے 1500 روپئے کے اس اضافی بوجھ کے نتیجہ میں مرکزی حکومت کے خزانے میں ہر سال 15,855 کروڑ روپئے کی بھاری رقم کا اضافہ ہوگا جو کہ غریب عوام کے جیبوں سے وصول کیا جا ئے گا ۔ سال 2016 میں مودی حکومت نے اجولا اسکیم کا آغاز کیا تھا تو غریبوں کو سال میں 12 سلینڈر سبسیڈی پر دیئے جاتے تھے۔ گزشتہ سال اگست میں اس کی تعداد کو کم کر کے 9 کیا گیا اور اب مغربی ایشیاء بحران کا بہانہ بناکر اسے مزید گھٹاکر صرف 4 کردیا گیا ۔ اس طرح مرکز نے مجموعی طور پر سال بھر میں دیئے جانے والے جملہ سلینڈرس میں 66 فیصد کی کٹوتی کردی ہے۔
