جی ایچ ایم سی کا الرٹ، 377 خستہ حال عمارتوں کی نشاندہی

c1-2

مانسون کے آغاز اور اد دوران کسی بھی ناخوشگوار حادثہ کو روکنے کیلئے گریٹر حیدرآباد میونسپل کارپوریشن نے ایک جامع اور فعال ایکشن پلان تیار کیا ہے ۔ کمشنر جی ایچ ایم سی کرنن نے شہر کے تمام زونس میں خستہ حالت عمارتوں ، قدیم باؤنڈری والس اور سیلرس کی کھدوائی کا فوری سروے کرنے کی سخت ہدایات جاری کی ہیں ۔ اس سلسلے میں زونل کمشنرس ، سرکل اے سی پیز اور متعلقہ حکام کے ساتھ ایک اہم ورچول میٹنگ بھی منعقد کی گئی ۔ حکام کی جانب سے کئے گئے سروے کے مطابق شہر کے 6 زونس میں اب تک جملہ 377 خستہ حال عمارتوں کی نشاندہی کی جاچکی ہے جن میں راجندر نگر زون میں 117 ، شمس آباد زون میں 75 ، سکندرآباد زون میں 70 ، چارمینار زون میں 56 ، گولکنڈہ زون میں 47 ، خیریت آباد زون میں 12 عمارتیںشامل ہیں ۔ کمشنر نے واضح حکم دیا ہے کہ ان عمارتوں کے مالکان کو فوری طور پر نوٹس جاری کئے جائیں گے ۔ ضرورت پڑنے پر ان عمارتوں کو خالی کرانے سیل کرنے یا منہدم کرنے کی کارروائی کی جائے گی ۔ اس کے علاوہ خطرناک خستہ حالت عمارتوں کے اطراف بیریگیڈز لگاکر عوام کی نقل و حرکت کو کنٹرول کیا جائے گا ۔ برسات کے موسم میں مٹی دھنسنے اور حادثات سے بچنے کیلئے جی ایچ ایم سی نے پورے مانسون سیزن کے دوران سیلر کی نئی کھدوائی پر مکمل پابندی عائد کردی ہے ۔ جن مقامات پر پہلے کھدوائی ہوچکی ہے ۔ وہاں حکام اس بات کا جائزے لے رہے ہیں کہ آیا کام اجازت ناموں کے مطابق ہورہا ہے اور حفاظتی معیارات پر عمل کیا جارہا ہے یا نہیں۔ کمشنر جی ایس ایم سی نے کھدوائی شدہ سیلرس میں پانی کو جمع ہونے سے روکنے کیلئے فوری اقدامات کرنے دیوار کی تعمیر ، مٹی کی مضبوطی اور بیریکیڈنگ جیسے حفاظتی اقدامات پر سختی سے عمل کرنے کی ہدایت دی ۔ کرنن نے نوٹس کی اجرائی کے باوجود قواعد پر عمل نہ کرنے والوں کیخلاف سخت قانونی کارروائی کا انتبادہ یا ۔ کمشنر جی ایچ ایم سی نے خستہ حالت عمارتوں میں رہنے والے عوام سے اپیل کی کہ وہ جانی نقصانات سے بچنے کیلئے فوری طور پر اپنے مکانات خالی کردیں اور بلدی عملے کے ساتھ مکمل تعاون کریں ۔ اس کے ساتھ ہی جن مالکان نے سیلر کی کھدوائی کی ہے انہیں ہدایت دی گئی ہے کہ وہ ملحقہ عمارتوں کو گرنے سے بچانے کیلئے فوری طور پر تمام حفاظتی اقدامات کریں ۔