اسکولس کی کشادگی کیلئے صرف 5 دن باقی ، تعلیمی کٹس کی غیر یقینی صورتحال

ریاستی حکومت نے نئے تعلیمی سال کے آغاز سے قبل سرکاری اسکولس کے طلبہ کو کارپوریٹ اسکولس کی طرز پر خصوصی کٹس فراہم کرنے کا اعلان ابھی تک زمین پر سچ ثابت نہیں ہوسکا ہے ۔ اسکولس کی دوبارہ کشادگی کے لیے ایک ہفتہ سے بھی کم کا وقت باقی رہ گیا ہے ۔ لیکن اضلاع حیدرآباد ۔ رنگاریڈی اور میڑچل کے علاوہ ریاست کے کسی بھی ضلع کے سرکاری اسکولس کو اب تک یہ کٹس موصول نہیں ہوئے ہیں ۔ چیف منسٹر ریونت ریڈی کی ہدایات پر محکمہ تعلیم کے حکام نے ریاست کے سرکاری اسکولس کے طلبہ کو کتابوں کا بیاگ ۔ جوتے ۔ ٹائی ۔ بیلٹ اور شناختی کارڈ ( آئی ڈی کارڈ ) پر مشتمل ایک خصوصی کٹ فراہم کرنے کا منصوبہ تیار کیا تھا لیکن عہدیدار یہ بتانے سے قاصر ہیں کہ یہ کٹس طلبہ میں کب اور کیسے تقسیم کیا جائے گا ۔ مختلف سرکاری اسکولس کے اساتذہ نے صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے بتایا کہ اسکولس کھلنے کی تاریخ بالکل قریب آچکی ہے ۔ لیکن تاحال یونیفارم اور اسکول کٹس کا کوئی نام و نشان نہیں ہے ۔ انہوں نے واضح کیا کہ اب تک صرف نصابی کتابیں ہی سربراہ کی گئی ہیں ۔ جو اس وقت منڈل مراکز کے اسٹاک پوائنٹس پر موجود ہیں ۔ یونیفارم ۔ بیاگس اور جوتوں کی عدم فراہمی سے تعلیمی سال کے پہلے ہی دن طلبہ کو یہ کٹس تقسیم کرنے کا سرکاری دعویٰ خطرے میں نظر آرہا ہے ۔ پہلی سے تیسری جماعت کے بچوں کے لیے ایک سائز ، چوتھی سے آٹھویں کے لیے دوسرا اور نویں سے دسویں جماعت کے طلبہ کے لیے تیسرا سائز طئے کیا گیا ہے ۔ ہر طالب علم کے پیر کی الگ سے ناپ لینے کے بجائے حکام نے محسوس کیا تھاکہ تین عام سائز میں جوتے فراہم کرنا ہی کافی ہوگا ۔ اس تمام تر منصوبہ بندی کے باوجود سپلائی چین میں تاخیر کی وجہ سے اساتذہ اور سرپرستوں میں تشویش پائی جاتی ہے کہ آیا تعلیمی سال کے آغاز پر غریب طلبہ کو یہ سہولیات مل پائیں گی یا نہیں ۔
