حیدرآباد میں سائیکل کی 150 سالہ منفرد تاریخ جو کبھی نوابوں کا فخر تھی

m3

آج کل کے دور میں جہاں مہنگی اور پرتعیش کاریں کسی کی مالی حیثیت اور دولتمندی کی علامت مانی جاتی ہے وہیں سائیکل کو عام طور پر غریبوں کی گاڑی یا محض فٹنس کا ذریعہ سمجھا جاتا ہے لیکن حیدرآباد کی تاریخ گواہ ہے۔ اب وہ 100 اور 125 سال قبل سائیکل دنیا کے امیر ترین نوابوں کی سب سے پسندیدہ سواری اور فخر کی علامت ہوا کرتی تھی۔ 3 جون کو دنیا بھر میں منائے جانے والے ’’عالمی یوم سائیکل‘‘ (Word Bicycle day) کے موقع پر شہر حیدرآباد میں سائیکل کی 150 سالہ منفرد تاریخ کے کئی دلچسپ پہلو سامنے آئے ہیں۔ تاریخی دستاویزات کے مطابق حیدرآباد میں سائیکل کو پہلی بار انگریزوں نے 1860 کے آس پاس متعارف کرایا تھا شہر میں سب سے پہلی سائیکل خریدنے کا اعزاز ارم منزل کے بانی نواب فخر الملک بہادر کے حصے میں آیا۔ سائیکل کا کریز اس دور کے امراء میں اس حد تک تھا کہ آصف جاہی سلطنت کے چھٹے تاجدار نواب میر محبوب علی خان اور پائیگاہ خاندان کے امیر نواب ظفر جنگ بہادر نے مل کر 1896 میں بشیر باغ محل میں باقاعدہ ایک ’’سائیکل کلب‘‘ قائم کیا تھا۔ جہاں شاہی خاندان کے افراد سائیکلنگ کرتے تھے۔ یہاں تک کہ دنیا کے امیر ترین شخص کہلانے والے آصف جاہی حکمرانوں نے بھی بعض مواقع پر عوامی نمائشوں میں سائیکلوں کی شان و شوکت کا مظاہرہ کیا۔ شہر حیدرآباد میں سائیکل کی بڑھتی ہوئی مقبولیت کو دیکھتے ہوئے سال 1904 میں سکندرآباد کی جیمزاسٹریٹ (موجودہ مہاتما گاندھی روڈ) پر بمبئی سائیکل ایجنسی کے نام سے پہلا افیشیل سائیکل شوروم کھولا گیا۔ وقت کے ساتھ ساتھ یہ سواری اتنی معتبر ہوگئی کہ حیدرآباد سٹی پولیس نے بھی اپنے اہلکاروں کے گشت کے لئے خصوصی طور پر فرانس کی بنی ہوئی مشہور کلسمینٹ سائیکلوں کا استعمال شروع کردیا۔ نظام حکومت کے دور میں سائیکل چلانے کے قوانین بھی انتہائی سخت تھے۔ سال 1960 تک حیدرآباد میں سائیکل چلانے کے لئے باقاعدہ لائسنس لینا لازمی ہوتا تھا جس کے لئے ایک چھوٹی سی دھاتی پلیٹ (ٹوکن) سائیکل پر لگائی جاتی تھی۔ اگر رات کے وقت سائیکل کی اگلی ہیڈ لائٹ (ڈائنیمولیمپ) کام نہ کررہی ہوتو سٹی پولیس نہ صرف جرمانہ عائد کرتی تھی بلکہ سائیکل کو ضبط بھی کرلیا جاتا تھا۔ سائیکل کی یہ 150 سالہ تاریخ بتاتی ہے کہ جو گاڑی کبھی شاہی محلات کی زینت ہوا کرتی تھی وہ وقت بدلنے کے ساتھ ساتھ عام عوام کی ضرورت بن گئی۔ آج کے حیدرآباد میں جہاں درجنوں سائیکل اسوسی ایشن سرگرم ہیں وہیں اب غریب اور محنت کش طبقے کے علاوہ ماحولیات سے محبت کرنے والے اور فٹنس کے دلدادہ افراد اس تاریخی سواری کو زندہ رکھے ہوئے ہیں۔