حفظ قرآن کی نعمت دنیا و آخرت میں عزت و نجات کا ذریعہ

مدرسہ عربیہ مدینہ العلوم، میدک میں جلسہ تکمیلِ حفظِ قرآن منعقد ہوا، جس میں حافظ محمد عارض الدین فرزند محمد امیر الدین کی دستار بندی اور تکمیلِ حفظِ قرآن کی تقریب انجام پائی۔ اس موقع پر علماء کرام، طلبہ، سرپرستوں اور معززینِ شہر کی بڑی تعداد شریک رہی۔جلسہ کی صدارت مولانا محمد جاوید علی حسامی نے کی۔ اپنے صدارتی خطاب میں انہوں نے کہا کہ حافظِ قرآن دولت سے نہیں بلکہ اللہ کی خاص قدرت اور توفیق سے بنتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ قرآن مجید اللہ کا وہ ابدی کلام ہے جسے قیامت تک کوئی مٹا نہیں سکتا۔ اللہ تعالیٰ نے خود اس کی حفاظت کا ذمہ لیا ہے، اسی لیے ہر دور میں حفاظِ کرام کی ایک جماعت موجود رہے گی۔ مولانا محمد جاوید علی حسامی نے امتِ مسلمہ کو تلقین کی کہ وہ اپنی زندگیوں کو نماز، قرآن اور مساجد سے وابستہ کریں، کیونکہ یہی دنیا و آخرت کی کامیابی کا راستہ ہے۔انھوں بتایا کہ مدرسہ کے قیام کے 24/ سالوں میں آج تک 193 حفاظ و حافظات تیار کرکے ایک عظیم دینی خدمات انجام دی ہے۔ اس بابرکت محفل کی فرائض نظامت استاذ مدرسہ مولانا ڈاکٹرمیرعابد علی ندوی نے انجام دی۔ اس موقع پر استاذ مدرسہ مولانا شعیب احمد قاسمی نے حفظِ قرآن کی عظمت اور فضیلت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ قرآن کریم کی خدمت اور اس کی تعلیم مسلمانوں کے لیے سب سے بڑی سعادت ہے، اور حافظِ قرآن اللہ تعالیٰ کے خصوصی انعامات کا مستحق ہوتا ہے۔اس نشست کا آغاز استاذ مدرسہ حافظ اعجاز بیگ کی قرأت کلام پاک سے ہوا۔ٹاون کے مشہور نعت خواں محمدناظرعلی بیگ ایڈوکیٹ نے نعت شریف سنانے کی سعادت حاصل کی۔اس تقریب سے خطاب کرتے ہوئے استاذ مدرسہ مفتی عبید الرحمٰن جاوید نے والدین پر زور دیا کہ وہ اپنے بچوں کو دینی تعلیم کے ساتھ حافظِ قرآن بنانے کی فکر کریں، کیونکہ قرآن کی نعمت دنیا و آخرت میں عزت، کامیابی اور نجات کا ذریعہ ہے۔ جلسہ کے اختتام پر حافظ محمد عارض الدین اور انکے والد محترم کو گلپوشی اور رومال پوشی کے زریعہ تہنیت پیش کی گئی، اس موقع پر مدرسہ کے تمام اساتذہ کی بھی گلپوشی عمل میں آء۔ خصوصی دعائیں کی گئیں اور تمام شرکاء نے قرآن کریم کی تعلیم و اشاعت کے عزم کا اعادہ کیا۔
