آئین کے تحفظ کو یقینی بنانے نوجوان نسل کی جدوجہد ضروری

p8

نوجوان نسل موجودہ حالات میں چوکس و چوکنا رہتے ہوئے آئین کے تحفظ کو یقینی بنانے کی جدوجہد کرے تاکہ ہندستان کو یرغمال بننے سے بچایا جاسکے۔ ’دی وائر‘ کانکلیوحیدرآباد سے بانی ایڈیٹر’دی وائر‘ سدھارتھ وردھاراجن نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جو حکمرانی چل رہی ہے وہ ملک کو جمہوریت کے ذریعہ آمریت کی سمت لیجانے کا کام ہے۔ ایڈیٹر دی وائر نے SIR کے نام پر ہندستانی شہریوں کو حق رائے دہی سے محروم کرنے کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ جو لوگ اپنے حق رائے دہی کیلئے جدوجہد کررہے ہیں ان کیخلاف بلڈوزر کاروائیوں کے ذریعہ نشانہ بنایا جانے لگا ہے۔ وردھاراجن کے ہمراہ اس کانکلیو میں کوڈالی سرینواس ‘ مس آئیشے گھوش‘ وجئے کے علاوہ دیگر موجود تھے ۔ وردھاراجن نے کہا کہ الیکشن کمیشن آف انڈیا کی کارکردگی کے انکشاف نے ہندستانی شہریوں میں نہ صرف بے چینی پیدا کی ہے بلکہ جمہوری نظام حکمرانی پر آمریت کے غلبہ کے ثبوت کے طور پر اس انکشاف کو دیکھا جانے لگا ہے۔ اگر اس معاملہ کو نظرانداز کیا جاتا ہے تو ’نئے ہندستان‘ کی تعمیر میں وقت لگ سکتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ امرت بھارت کے نام پر جو صورتحال پیدا کی گئی ہے وہ ہر شعبہ میں ظاہر کرنے کی کوشش کی جارہی ہے اور یہ باور کروایا جار ہاہے کہ ہندستان میں شہریوں کو 2014 سے ہی آزادی حاصل ہوئی ہے جبکہ 1950 میں جب امریکہ میں افریقی امریکیوں کو حق رائے دہی حاصل نہیں تھا اس وقت ہندستان میں ہندستان کے تمام شہریوں کو ’حق رائے دہی ‘ حاصل ہوچکا تھا ۔ اب ہندستان میں امرت بھارت کے نام پر حق رائے دہی سے محروم کرنے کے اقدامات کئے جا رہے ہیں۔ ا س کانکلیو سے خطاب کے دوران مس آئیشے گھوش نے ملک کے نظام حکمرانی کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ جنتر منتر پر ہوئے احتجاج نے ہندستان کے نوجوانوں کی فکری صلاحیتوں کو اجاگر کیا جو کہ مان رہی ہے کہ ان کے ساتھ دھوکہ کیا جا رہاہے ۔ انہوں نے بتایا کہ 2014 کے بعد سے ملک میں آر ایس ایس اور بی جے پی نے اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں کے خلاف جرائم کو معمول کی بات بنا دیا اس کے علاوہ طلبہ کے خلاف کی جانے والی کاروائیوں کو بھی معمول کی بات کے طور پر پیش کیا جانے لگا ہے۔ آئیشے گھوش نے اپنے خطاب کے دوران کہا کہ آرایس ایس کئی برسوں سے محض نظریہ سازی کے کام میں مصروف رہی اور 2014 میں بی جے پی کے اقتدار کے بعد تعلیمی اداروں پر کنٹرول حاصل کرتے ہوئے نوجوان نسل کے ذہنوں کو پراگندہ کرنے کی کوششوں کا آغاز کیاگیا کیونکہ آرا یس ایس یہ جانتی ہے اور اس بات پر یقین رکھتی ہے کہ ایک مرتبہ ذہنوں کو پراگندہ کردیا جائے تو یہ پراگندگی کو دور کرنا نہایت ہی مشکل ہوتا ہے اسی لئے ملک کے سرکردہ تعلیمی اداروں پر اپنے کنٹرول کو یقینی بنانے کی کوششیں کی جانے لگی ہیں۔انہوں نے بتایا کہ تعلیمی اداروں یا جامعات کو ہی نہیں بلکہ ملک کے دستوری و آئینی اداروں پر بھی آر ایس ایس اپنے نظریات کے کنٹرول میں بڑی حد تک کامیاب ہوچکی تھی لیکن اب GenZ اپنے ملک کو بچانے سڑکوں پر آچکے ہیں تو ایسی صورت میں انہیں مشکل حالات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے ۔آئیشے نے ملک میں دستور کی بالادستی کی برقراری کے لئے سڑکوں پر کی جانے والی جدوجہد کو ناگزیر قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہندستان اگر دستور کے مطابق نہیں چلتا ہے تو ایسی صورت میں ہندستان میں غیر یقینی صورتحال پیدا ہونے لگ جائے گی۔ مسٹر کوڈالی سرینواس نے کہا کہ جس طرح کے حالات ہندستان میں پیدا کئے جارہے ہیں انہیں ایک دوسرے سے جوڑ کر دیکھنے کی ضرورت ہے ۔ انہوں نے سائبر نگرانی اور اپنے ہی شہریوں پر نظر رکھنے کے اقدامات کے لئے حکومت ہند کو ذمہ دار قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہندستان میں سائبر دنیا کے فروغ کے نام پر نگرانی کو سخت کیا جارہاہے ۔ کوڈالی سرینواس نے کانکلیو میں شریک بیرونی مہمانوں کا ’ڈیجیٹل نگرانی‘ کے شہر میں خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ حیدرآباد غزہ میں کی جانے والی بمباری کے ڈرون کی تیاری کا ہی مرکز نہیں ہے بلکہ اسرائیل ۔ پیگاسیس کا بھی حیدرآباد سے راست تعلق رہا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ سائبر نگرانی اور ڈیجیٹل نگرانی کے نام پر شہریوں پر نظر رکھنے کی بنیادی وجوہات اور ان کی نقل و حرکت کی نگرانی کرتے ہوئے ان کی شخصی رازداری کو نشانہ بنایا جارہا ہے۔