بھیڑ بھاڑ اور زائد ٹریفک کے مسائل میں بنگلور کو دیگر شہروں پر سبقت

ملک کے اہم شہروں میں شہری علاقوں کی توسیع نے بھیڑ بھاڑ اور ٹریفک کے مسائل کو عوام کے لئے مزید پیچیدہ بنادیا ہے۔ میٹرو پولیٹن شہروں کے علاوہ ملک کے دیگر اہم شہروں میں روزگار اور مزدوری کے لئے لاکھوں کی تعداد میں افراد کا دیہی علاقوں سے منتقل ہونا معمول بن چکا ہے۔ حکومتوں کی جانب سے بڑھتی آبادی کو دیکھتے ہوئے شہروں کو وسعت دی جارہی ہے۔ تاہم انفراسٹرکچر سہولتوں کی فراہمی کے معاملہ میں بڑے شہروں کی صورتحال مختلف ہے۔ بھیڑ بھاڑ اور ٹریفک کے اعتبار سے ہندوستان کے 10 بڑے شہروں میں عوام کو درپیش مسائل کا جائزہ لیا گیا۔ سروے کے مطابق بنگلور کا شمار ملک کے سب سے زیادہ بھیڑ بھاڑ والے شہر میں ہوتا ہے جہاں فاصلہ طے کرنے کے لئے زائد وقت درکار ہے۔ سروے کے مطابق بنگلور میں 10 کیلو میٹر کا فاصلہ 36 منٹ 9 سیکنڈ میں طے کیا جاتا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ بھیڑ بھاڑ اور ٹریفک والے شہروں میں دارالحکومت نئی دہلی آخری نمبر پر ہے۔ عام طور پر ملک کے دارالحکومت کے اعتبار سے زائد بھیڑ بھاڑ کی توقع کی جاسکتی ہے لیکن کولکاتا، پونے، حیدرآباد، چینائی نے ٹاپ لسٹ میں اپنا مقام بنایا ہے۔ ممبئی جو ملک کا معاشی اور تجارتی دارالحکومت کہلاتا ہے، لیکن وقت کے ساتھ ساتھ دیگر ریاستوں سے تعلق رکھنے والے مزدوروں کے لئے وہ بطور ترجیح باقی نہیں رہا۔ مصروف ترین اور بھیڑ بھاڑ والے شہروں کے معاملہ میں ممبئی نویں مقام پر ہے۔ کولکاتا میں 10 کیلو میٹر کا فاصلہ 35 منٹ 18 سیکنڈ میں طے کیا جاسکتا ہے اور یہ شہر ہندوستان کا دوسرا بڑا مصروف ترین شہر بن چکا ہے۔ پونے 13 منٹ 20 سیکنڈ کے حساب سے تیسرے نمبر پر ہے۔ حیدرآباد اور چینائی میں 10 کیلو میٹر فاصلہ طے کرنے کے لئے اوسطاً 30 تا 31 منٹ درکار ہوتے ہیں اور یہ دونوں شہر ٹاپ 10 فہرست میں چوتھے اور پانچویں مقام پر ہیں۔ حیدرآباد میں 10 کیلو میٹر کا فاصلہ 32 منٹ 37 سیکنڈس جبکہ چینائی میں 31 منٹ 15 سیکنڈ میں طے کیا جاسکتا ہے۔ ممبئی میں 28 منٹ 51 سیکنڈ جبکہ دہلی میں محض 24 منٹ میں 10 کیلو میٹر کا فاصلہ طے کیا جاسکتا ہے۔ ماہرین نے بتایا کہ مسافت طے کرنے کے وقت کا انحصار شہروں میں بہتر انفراسٹرکچر سہولتوں پر منحصر ہے۔ سڑکوں کی توسیع، فلائی اوورس، انڈر پاس اور بہتر ٹریفک نظام کے ذریعہ طویل فاصلہ کو کم وقت میں عبور کرنے کی سہولت فراہم کی جاسکتی ہے۔
