بی آر ایس اور بی جے پی کے درمیان اتحاد کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا : کے ٹی آر

13-copy

آر ایس کے ورکنگ پریسیڈنٹ کے ٹی آر نے واضح کیا کہ بی آر ایس اور بی جے پی کے درمیان اتحاد کا کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ کوچی کے گرانڈ حیات میں منعقدہ ’’انڈیا ٹوڈے کانکلیو ساؤتھ 2026ء‘‘ میں شرکت کرتے ہوئے ان خیالات کا اظہار کیا۔ کے ٹی آر نے تلنگانہ اور ملکی سیاست سے متعلق اہم موضوعات پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے اعتماد ظاہر کیا کہ تلنگانہ میں آئندہ حکومت بی آر ایس تشکیل دے گی اور پارٹی کے سربراہ کے سی آر ایک بار پھر ریاست کے چیف منسٹر کا عہدہ سنبھالیں گے۔ کانکلیو میں گفتگو کرتے ہوئے کے ٹی آر نے کہا کہ بی آر ایس نے اپنے 26 سالہ سیاسی سفر میں کبھی بی جے پی کے ساتھ اتحاد نہیں کیا۔ ہم نے 2014ء، 2018ء اور 2023ء کے انتخابات میں تنہا اپنے دَم پر مقابلہ کیا۔ نظریاتی طور پر ہم بی جے پی کے خلاف ہیں۔ اس لئے اتحاد کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ کے ٹی آر نے مرکزی حکومت کے مجوزہ حد بندی کی پالیسی پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اگر آبادی کو بنیاد بنایا گیا تو یہ آبادی پر کامیابی سے قابو پانے والی جنوبی ریاستوں کیلئے ایک بڑا نقصان ثابت ہوگا۔ انہوں نے بتایا کہ ملک کی جملہ آبادی میں جنوبی ریاستوں کا حصہ 24% سے گھٹ کر 19% رہ گیا ہے۔ کے ٹی آر نے استفسار کیا کہ اگر پارلیمنٹ کی نشستیں بڑھائی جارہی ہیں تو اسمبلی کی نشستیں کیوں نہیں بڑھائی جارہی ہیں۔ موجودہ 548 لوک سبھا نشستوں پر خواتین کیلئے 33% تحفظات کو فوری کیوں نافذ نہیں کیا گیا۔ کے ٹی آر نے کہا کہ بی آر ایس اس وقت حد بندی کی تائید کرے گی، جب مرکزی حکومت تناسب کے ساتھ نشستوں میں اضافہ کرے گی۔ کے ٹی آر نے کہا کہ ہم مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ کے اس وعدے پر بالکل یقین نہیں کرسکتے کہ حد بندی سے کسی ریاست کے ساتھ ناانصافی نہیں ہوگی۔ مرکز نے تلنگانہ ری آرگنائزیشن ایکٹ کے کئی احکامات پر اب تک عمل نہیں کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ آسام اور جموں و کشمیر میں تو اسمبلی نشستیں بڑھا دی گئی لیکن تلنگانہ اور آندھرا پردیش میں وعدے کے باوجود اضافہ نہیں کیا گیا کیونکہ ان ریاستوں میں بی جے پی کی سیاسی زمین مضبوط نہیں ہے۔ بی جے پی صرف اپنے سیاسی مفادات کیلئے حد بندی کا استعمال کررہی ہے۔