آٹو رکشہ ڈرائیورس مفت بس خدمات سے شدید نقصان میں

آٹو رکشہ کے کرایوں میں اضافہ کے حکومتی فیصلے نے آٹو ڈرائیوروں کو ’’آگ سے نکل کر بھٹی میں گرنے‘‘ جیسی صورتحال سے دوچار کردیا ہے یعنی وہ ایک قسم کی مشکلات سے نکل کر اس سے بھی بدتر مسائل میں گھر گئے ہیں۔ آٹو ڈرائیوروں کو درپیش نمایاں مشکلات کے باوجود جن میں مفت بس سفر کی اسکیم کی وجہ سے روزگار کا چھین جانا اور خاندان کی کفالت یا بچوں کی اسکول فیس کی ادائیگی میں مشکلات شامل ہیں۔ بی ایم ایس آٹو یونین اور بی آر ٹی یو ٹیکسی یونین جیسی تنظیموں نے اس اقدام کی شدید مذمت کی ہے اور الزام لگایا ہیکہ حکومت ایک بار پھر کرایوں میں اضافے کی آڑ میں آٹو ڈرائیوروں پر بوجھ ڈالنے کی تیاری کررہی ہے۔ بہت سے آٹو ڈرائیور پہلے ہی اولا، اوبیر اور ریاپیڈو جیسے پلیٹ فارمز پر کام کررہے ہیں اگر ان پلیٹ فارمز کی کمپنیاں قیمتیں بڑھاتیں تو وہی کافی ہوتا کیونکہ ان کی سرویسز ایپ پر مبنی ہوتی ہیں اور اس سے ڈرائیوروں کو براہ راست فائدہ پہنچتا تاہم یونینوںکا موقف ہیکہ ایپ پر مبنی آپریشنز سے قطع نظر صرف سرکاری طور پر مقرر کردہ آٹومیٹر کے کرایوں میں اضافہ ڈرائیوروں پر غیرضروری مالی بوجھ ڈالتا ہے۔ انہوں نے ہر آٹو رکشہ میں ڈیجیٹل میٹر نصب کرنے کی نئی شرط کی طرف بھی نشاندہی کی جس پر 10 ہزار روپئے تک کا خرچ آئے گا۔ ان کا کہنا ہیکہ اس اقدام سے آٹو رکشہ ڈرائیوروں پر بوجھ پڑتا ہے۔ بی ایم ایس نے کرایوں میں اضافہ کی مخالفت کا اعلان کیا اور کہا کہ وہ حکومتی حکم نامے (جی او) کی کاپیاں نذرآتش کرنے کیلئے تین روزہ مہم چلائے گی۔ آٹو ڈرائیورز کا مطالبہ ہیکہ حکومت میٹرز مفت نصب کرے اور میٹر نہ ہونے کی صورت میں گاڑیوں کے خلاف مقدمات درج کرنے سے گریز کرے۔ ریاست میں آٹو رکشہ ڈرائیوروں کی تعداد آٹھ لاکھ ہے۔ مفت بس سرویس اسکیم کی وجہ سے ابھی تک 250 سے زائد آٹو رکشہ ڈرائیوروں نے خودکشی کرلی ہیں۔ حکومت متاثرہ خاندانوں کیلئے ابھی تک کوئی اقدام نہیں اٹھایا۔ آٹو یونینوں نے مطالبہ کیا کہ حکومت اپنے انتخابی منشور کے وعدے کو پورا کرے اور ہر آٹو رکشہ ڈرائیور کے کھاتے میں سالانہ 12 ہزار روپئے جمع کرائے۔
