وقف ترمیمی بل کے ضمن میں مسلمانوں کی اجتماعیت قابل ستائش اورشکریہ کے حقدار: مولانا فضل الرحیم مجددی

n6319958081727012945504f8e4146896220d4aa69e33564911ceb36a92ca1b9c1e3920c714506fa6c85acb

مسلمانوں کی اجتماعیت پر زور دیتے ہوئے آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کے جنرل سکریٹری مولانا فضل الرحیم مجددی نے کہا کہ مسلمانوں نے جس طرح وقف ترمیمی بل کے خلاف اجتماعیت کا ثبوت دیا ہے- وہ قابل قدر اور قابل ستائش ہے- یہ بات انہوں نے گزشتہ دنوں ممبئی میں مسلمانوں کے اہم اور سرکردہ افراد کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہی انہوں نے کہاکہ وقف ترمیمی بل کے سلسلے میں جس طرح مسلما نوں،مساجد کے اتمہ کرام، علماء کرام اور دیگر پیشہ سے وابستہ مسلمانوں نے بیداری اور اجتماعیت کا ثبوت پیش کیا ہے وہ قابل قدر اور قابل ستائش ہے اور اسے ہر صورت میں برقرار رکھنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہاکہ مسلمانوں کے مسائل قوم کی بیداری، مستعدی اور فعال کردار ادا کرنے سے ہی حل ہوسکتے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ ملک بھر میں مسلمانوں نے جس طرح وقف ترمیمی بل کے خلاف اپنے اتحاد کا مظاہرہ کیا ہے اور بڑی تعداد میں اپنے اعتراضات مشترکہ پارلیمانی کمیٹی کو بھیجے ہیں وہ قابل قدر، قابل مبارکباد اور شکریہ کے حقدار ہیں۔ مولانا مجددی نے کہاکہ اس وقت مسلمان نہایت تکلیف دہ حالات سے گزر رہے ہیں، ان کے حقوق پر ڈاکہ ڈالا جارہا ہے اور وقف جائداد کو ہڑپنے کی ہرطرح کی ناپاک کوشش کی جارہی ہیں۔ ایسے میں مسلمانوں کو اپنے کردار کی طرف بھی توجہ دینی چاہئے، اپنے گناہوں کی طرف بھی جھانکنا چاہئے کہ ان سے کون سی خطا سرزد ہورہی ہے جس کی وجہ سے اللہ تعالی ہم سے ناراض ہیں۔انہوں نے اپنے معمول میں ذکر و اذکار کو شامل کرنے کی اپیل کرتے ہوئے کہاکہ ہم لوگوں کو چاہئے کہ اللہ کے دربار میں اپنی معصیت گناہوں اور کے لئے اللہ سے معافی مانگیں اور درود و سلام کا ورد اپنے معمول میں شامل کریں۔