کویت میں ممبئی کے مسلم نوجوان کی انسانی ہمدردی _ آندھراپردیش کی ہندو خاتون کی دو سال تک تیمارداری کے بعد اسے گھر تک پہنچایا

کویت میں ممبئی سے تعلق رکھنے والے ایک مسلم نوجوان نے اس کے پڑوس میں رہنے والی ایک ییمار ہندو معمر خاتون کی اپنی ماں کی طرح دو سال تک اس کی نہ صرف تیمارداری کی بلکہ اسے آندھراپردیش میں واقع اس کے گھر تک پہنچایا ۔
ممبئی کے محمد یونس نامی نوجوان کی ہر گوشے سے ستائش کی جا رہی ہے جس نے ایک ہندو خاتون کو دو سال تک اپنے ہاتھوں سے کھانا کھلایا اور اس کا علاج بھی کروایا جو کورونا وائرس کی وبا میں وائرس سے متاثر ہو کر فالج کے مرض میں مبتلا ہوگئی تھی,بتایا جاتا ہے کہ آندھراپردیش کے مشرقی گوداوری ضلع کے سکھینیتی پلی منڈل کی ایک خاتون موری پدماوتی (62) کو دو دہے قبل کویت پہنچنے کے چند ہفتوں بعد احساس ہوا کہ اس کے ساتھ دھوکہ ہوا ہے۔ پدماوتی، جس نے کویت میں کئی سالوں تک چھوٹے موٹے کام کرتے ہوئے پیسے کماتے ہوئے ہندوستان میں اپنے گھر والوں کو بھیجتی رہی ۔لیکن جس خاندان نے اس کے بھیجے ہوئے پیسے استعمال کیے وہ اس کے بیمار ہو جانے کے بعد خیر خیریت بھی معلوم کرنا گوارہ نہیں کئے ۔
