بتایا جاتا ہے کہ آندھراپردیش کے مشرقی گوداوری ضلع کے سکھینیتی پلی منڈل کی ایک خاتون موری پدماوتی (62) کو دو دہے قبل کویت پہنچنے کے چند ہفتوں بعد احساس ہوا کہ اس کے ساتھ دھوکہ ہوا ہے۔ پدماوتی، جس نے کویت میں کئی سالوں تک چھوٹے موٹے کام کرتے ہوئے پیسے کماتے ہوئے ہندوستان میں اپنے گھر والوں کو بھیجتی رہی ۔لیکن جس خاندان نے اس کے بھیجے ہوئے پیسے استعمال کیے وہ اس کے بیمار ہو جانے کے بعد خیر خیریت بھی معلوم کرنا گوارہ نہیں کئے ۔

ایک مسلملڑکی اپنے عاشق کے ساتھ مندر میں شادی کررہی تھی کہ شادی سے عین قبل پولیس کی ٹیم وہاں پہنچ گئی اور دلہن کو وہاں سے زبردستی لے گئی۔ یہ واقعہ ریاست کیرالا کا ہے۔کوولم کی رہنے والی الفیہ اور کے ایس روڈ کوولم کے رہنے والے اکھیل ایک دوسرے کے سے پیار کرتے تھے اور شادی کے خواہشمند تھے۔ گزشتہ جمعہ کو الفیہ نے اکھیل کے ساتھ رہنے کا فیصلہ کیا اور کوولم پہنچ گئی۔ اس کے بعد الفیہ اور اکھیل کے اہل خانہ نے کوولم پولیس اسٹیشن کے ایس آئی اور ایک وارڈ ممبر کی ثالثی میں بات چیت کی گئی۔
بالآخر الفیہ کو اس کی خواہش کے مطابق اکھیل کے ساتھ جانے کی اجازت مل گئی۔انہوں نے کل شام پانچ بجے سری مدن تھمپورن مندر مالاویلا پناموت، کے ایس روڈ، کوولم میں شادی کرنے کا منصوبہ بنایا۔ تاہم شادی سے عین قبل ایک پولیس ٹیم مندر پہنچی اور زبردستی الفیہ کو لے گئی۔ ہونے والے دلہے کے رشتے داروں نے شدید برہمی کا اظہار کیا ہے۔
