جموں و کشمیر کا کون ہوگا وزیراعلی؟ عمر عبداللہ کے بیان سے پھنس گیا پیچ، کہا: میں دعوی پیش نہیں کررہا

n6343186021728463555145714508e64cc57ecb6cc8689a3f52263752d58501ccf3487ef5177d3dc2561339

جموں و کشمیر اسمبلی انتخابات میں نیشنل کانفرنس اور کانگریس اتحاد کو اکثریت ملنے کے بعد اب قیاس آرائیاں کی جارہی ہیں کہ وہاں وزیر اعلیٰ کون ہوگا۔ حالانکہ نتائج میں اکثریت ملنے کے فوراً بعد فاروق عبداللہ نے اپنے بیان میں واضح طور پر کہہ دیا تھا کہ ان کے بیٹے عمر عبداللہ وزیراعلیٰ ہوں گے ۔ تاہم اب عمر عبداللہ نے خود کہا ہے کہ اس حوالے سے ابھی کچھ طے نہیں ہوا ہے۔ نیشنل کانفرنس کے نائب صدر عمر عبداللہ نے کہا کہ ‘انڈیا’ اتحاد کی اتحادی جماعتوں کی میٹنگ میں جموں و کشمیر اسمبلی میں اتحاد کے لیڈر کے انتخاب کے بعد ہی حکومت بنانے کا دعویٰ پیش کیا جائے گا۔ عبداللہ نے یہاں اپنی رہائش گاہ کے باہر نامہ نگاروں سے کہا کہ ”نیشنل کانفرنس قانون ساز پارٹی کی میٹنگ ہوگی۔ میں جموں و کشمیر کا وزیر اعلیٰ بننے کا دعویٰ پیش نہیں کر رہا ہوں۔ "اتحاد اور منتخب اراکین فیصلہ کریں گے کہ وہ اگلے پانچ سالوں کے لیے ریاست کی قیادت کے لیے کس کو منتخب کرنا چاہتے ہیں۔” اس سے پہلے نیشنل کانفرنس کے صدر فاروق عبداللہ نے اعلان کیا تھا کہ عمر عبداللہ وزیر اعلیٰ بنیں گے۔ عمر عبداللہ نے کہا کہ وہ نیشنل کانفرنس کے صدر کی طرف سے ان پر کئے گئے اعتماد کے لئے شکر گزار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نیشنل کانفرنس مقننہ پارٹی اور اتحاد مل کر اس سلسلے میں کوئی فیصلہ کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ پارٹی کو جشن منا لیں اور پارٹی قائدین اور کارکنان سکون کی سانس لے لیں، جس کے بعد نیشنل کانفرنس لیجسلیچر پارٹی کا اجلاس منعقد ہوگا۔ عمر عبداللہ نے کہا کہ چند دنوں میں ہم اپنی مقننہ پارٹی کی میٹنگ بلائیں گے، جس میں نیشنل کانفرنس لیجسلیچر پارٹی کے لیڈر کا انتخاب کیا جائے گا۔ پھر ہم اتحاد کے ساتھ بیٹھیں گے اور فیصلہ کریں گے کہ اس کی قیادت کون کرے گا۔ پھر جب ہمیں حمایت کے تمام خطوط مل جائیں گے تو ہم لیفٹیننٹ گورنر کے سامنے حکومت سازی کا دعویٰ پیش کریں گے۔