موسم گرما میں پرندوں کی پیاس بجھانے ریاض پاشاہ کا 25 کیلو میٹر سفر

ایسے وقت جبکہ سماج میں انسان ایک دوسرے کے خون کا پیاسہ بن چکا ہے اور ہمدردی کا کوئی تصور نہیں، کرناٹک کے بیدر سے تعلق رکھنے والے ایک مسلم نوجوان نے پرندوں سے ہمدردی کی ایک مثال قائم کی ہے۔ موسم گرما میں مکانات کی چھت پر پرندوں کے لئے پانی کا انتظام کرنے کے بارے میں تو ہر کسی نے سنا ہوگا لیکن ریاض پاشاہ نے 25 کیلو میٹر سے زائد کی مسافت طے کرتے ہوئے سنگاریڈی ضلع کے ایک دیہات میں پرندوں کے لئے روزانہ پانی کا انتظام کرتے ہوئے عوام کی ستائش کے مستحق بن گئے۔ تلنگانہ اور کرناٹک کی سرحد پر واقع دیگل واڑی گاؤں کے افراد کو یہ دیکھ کر حیرت ہوئی کہ بیدر ضلع سے تعلق رکھنے والا ایک 30 سالہ نوجوان 25 کیلو میٹر کی مسافت طے کرتے ہوئے گزشتہ 10 برسوں سے موسم گرما میں پرندوں کے لئے پانی کا انتظام کررہا ہے۔ جس گاؤں میں درختوں پر ریاض پاشاہ نے پلاسٹک کی بوتلوں اور مٹی کے چھوٹے برتن لگائے ہیں وہاں اطراف و اکناف کے پرندوں کو ریاض پاشاہ کی آمد کا انتظار ہوتا ہے اور اُن کی آمد کے ساتھ ہی پرندے درخت پر جمع ہونے لگتے ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ ریاض پاشاہ کا تعلق بیدر کے اوراد تعلقہ میں کولور گاؤں سے ہے اور وہ موسم گرما میں روزانہ پابندی کے ساتھ نیالکل منڈل کے دیگل واڑی گاؤں میں پرندوں کے لئے پانی اور غذا کا انتظام کررہے ہیں۔ کسان کے بیٹے ریاض نے پرندوں سے ہمدردی کی اپنی داستان بیان کرتے ہوئے کہاکہ 2016ء میں سخت گرمی کے دوران اُنھوں نے اپنے رشتہ دار کی زرعی باؤلی پر پرندوں کو پانی کے لئے تڑپتے دیکھا تھا۔ پرندوں کو پانی سربراہ کرنے باؤلی کے پاس مستقل طور پر ایک مٹی کا گھڑا رکھا جاتا ہے۔ موسم گرما میں جب زرعی سرگرمیاں روک دی جاتی ہیں، مٹی کا گھڑا بھی سوکھ جاتا ہے جس کے نتیجہ میں پرندوں کو پانی کی تلاش میں اطراف گھومتے دیکھا گیا۔ ریاض نے موسم گرما میں مٹی کے گھڑے کو پابندی سے بھرتے ہوئے پرندوں کو راحت دی ہے۔ اِس تحریک کو آگے بڑھاتے ہوئے ریاض پاشاہ نے قریبی گاؤں کے درختوں پر پلاسٹک اور مٹی کے بوتل اور چھوٹے برتن لٹکا دیئے تاکہ پرندے بہ آسانی پانی نوش کرسکیں۔ گزشتہ 10 برسوں سے موسم گرما میں ریاض پاشاہ پرندوں کی نگہداشت کررہے ہیں۔ کوویڈ 19 کے دوران 2020ء میں اُنھوں نے دیکھا کہ پڑوسی ریاست تلنگانہ کے نیالکل منڈل کے موضع دیگل واڑی میں پرندوں کی ابتر صورتحال ہے۔ اُنھوں نے اِس گاؤں میں درختوں پر تقریباً 50 چھوٹے برتن نصب کئے۔ ریاض پاشاہ ہر سال مارچ، اپریل اور مئی کے دوران ایک دن کے وقفہ سے گاؤں پہونچ کر برتنوں میں پانی بھرتے ہیں۔ مانسون کی آمد تک یہ سلسلہ جاری رہتا ہے۔ ریاض پاشاہ موٹر سائیکل پر پلاسٹک کے دو گھڑے ساتھ لیجاتے ہیں جن میں پانی بھرا ہوتا ہے۔ پانی کے علاوہ پرندوں کی مختلف اجناس جیسے چاول اور ملیٹس سے مہمان نوازی کی جاتی ہے۔ سوشل ورک میں پوسٹ گرائجویٹ ریاض پاشاہ ایک غیر سرکاری تنظیم کے ہیلت سیکٹر میں ملازمت کررہے ہیں۔ وہ طلبہ اور نوجوانوں میں پرندوں کے تحفظ کے لئے بھی شعور بیداری مہم چلارہے ہیں۔ دیگل واڑی سے تعلق رکھنے والے افراد نے ریاض کی خدمات کو سراہا ہے۔ مقامی افراد کا کہنا ہے کہ ریاض سے متاثر ہوکر گاؤں والوں نے اپنے مکانات کے باہر موسم گرما میں پانی کے انتظام کا آغاز کیا ہے تاکہ پرندوں کی پیاس بجھائی جاسکے۔
