تلنگانہ جہدکاروں کے انتخاب کیلئے کل جماعتی اجلاس میں سرگرم مشاورت

8-copy

تلنگانہ تحریک کے جہد کاروں کے انتخاب کے سلسلہ میں حکومت کی جانب سے تشکیل شدہ اعلیٰ اختیاری کمیٹی کا اجلاس ڈاکٹر کے کیشو راؤ کی صدارت میں منعقد ہوا۔ وزیر ٹرانسپورٹ پونم پربھاکر، رکن قانون ساز کونسل پروفیسر کودنڈا رام، رکن قانون ساز کونسل ادنکی دیاکر، سابق ایم ایل سی راملو نائک اور ایم شوبھن ریڈی کمیٹی کے ارکان ہیں۔ کمیٹی کی جانب سے آج پہلا کل جماعتی اجلاس طلب کیا گیا جس میں علیحدہ تلنگانہ سے متعلق 3 تحریکات میں سرگرمی سے حصہ لینے والے جہدکاروں کے انتخاب کے طریقہ کار کا جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں کانگریس، بی جے پی، بی آر ایس، سی پی آئی، تلگودیشم، تلنگانہ جنا سمیتی، عام آدمی پارٹی، سی پی آئی (ایم ایل) نیو ڈیموکریسی اور سی پی آئی (ایم ایل) ماس لائن کے نمائندوں نے شرکت کی۔ ڈاکٹر کیشو راؤ نے اجلاس کو بتایا کہ حکومت سیاسی وابستگی سے بالاتر ہوکر جہدکاروں کا انتخاب کرنا چاہتی ہے تاکہ اُنھیں مناسب طور پر تہنیت پیش کی جائے۔ اُنھوں نے کہاکہ مختلف زمرہ جات کے تحت جہدکاروں کے لئے علیحدہ گائیڈ لائنس کو قطعیت دی جائے گی۔ سیاسی پارٹیوں سے وابستہ افراد کے علاوہ سرکاری ملازمین، طلبہ، صحافیوں، ایڈوکیٹس اور دیگر شعبہ جات سے وابستہ افراد کا انتخاب عمل میں آئے گا۔ تلنگانہ تحریک کے دوران مقدمات اور مالی نقصانات کا سامنا کرنے والے افراد کی نشاندہی کی جارہی ہے۔ کیشو راؤ نے کہاکہ فنکاروں، آرٹسٹ اور تفریحی شعبہ سے وابستہ جہدکاروں کو بھی اعزاز عطا کیا جائے گا۔ شہیدان تلنگانہ کی یادگار سے متصل عمارت میں کمیٹی کا دفتر قائم کیا جارہا ہے جہاں سماج کے مختلف طبقات سے تجاویز حاصل کی جائیں گی۔ بعد میں میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے ڈاکٹر کیشو راؤ نے کہاکہ تلنگانہ حکومت جہدکاروں کو تہنیت پیش کرنے کے معاملہ میں وسیع ذہن رکھتی ہے۔ اُنھوں نے کہاکہ دوسرے مرحلہ میں غیر مسلمہ سیاسی پارٹیوں کے علاوہ مختلف طبقات کی تنظیموں کے نمائندوں کو مدعو کیا جائے گا۔ اُنھوں نے کہاکہ جہدکاروں کا انتخاب ایک جاریہ عمل ہے جس کے لئے وسیع تر مشاورت کی جائے گی۔ تلنگانہ تحریک میں سماج کے ہر طبقہ اور شعبہ نے نمایاں طور پر حصہ لیا تھا۔ اجلاس میں شریک پارٹیوں کے نمائندوں نے حکومت کی مساعی کو سراہا۔ پونم پربھاکر نے کہاکہ کانگریس حکومت نے جہدکاروں کے سلسلہ میں جو وعدے کئے تھے اُن پر عمل کیا جائے گا۔ اُنھوں نے کہاکہ عوام سے تجاویز اور مشورے حاصل کرنے کے لئے آن لائن سہولت فراہم کی جائے گی۔ پروفیسر کودنڈا رام نے بتایا کہ عثمانیہ یونیورسٹی، ناگر جنا یونیورسٹی اور دیگر یونیورسٹیز کی اسٹوڈنٹس جوائنٹ ایکشن کمیٹیوں سے مشاورت کی جائے گی۔