سکھبیر سنگھ بادل پر فائرنگ کرنے والا ” قوم کا ہیرا ”

n64247636517336186653884b80a347062191ebd48b6e257972f7dfa7dfc80b3a5fecc67961038bf13408f7

مرکزی وزیر رونیت سنگھ بٹو کا بیان ۔ مقدمہ درج نہ کرنے پر زورلکھنو : مرکزی وزیر رونیت سنگھ بٹو نے کہا ہے کہ شرومنی اکالی دل کو اس شخص کو اعزاز پیش کرنا چاہئے جس نے اکالی دل سربراہ سکھبیر سنگھ بادل پر گولی چلائی تھی کیونکہ خود سکھبیر سنگھ بادل نے یہ اعتراف کیا ہے کہ انہوں نے غلطی کی ہے جس کے نتیجہ میں سابق ڈپٹی چیف منسٹر پنجاب کو سزا بھگتنی پڑ رہی ہے ۔ مسٹر بٹو نے اکالی دل پر تنقید کرتے ہوئے تجویز کیا ہے کہ پارٹی جنرل سکریٹری بکرم سنگھ مجیتیا کو بادل پر فائرنگ کرنے والے شخص نارائن سنگھ چئورا کی اسی طرح ستائش کرنی چاہئے جس طرح انہوں نے بے انت سنگھ کے قاتلوں کی کی تھی ۔ مسٹر بٹو نے الزام عائد کیا کہ اکالی دل کی دہشت گردوں سے ہمدردی ہے تاہم دہشت گرد کسی کے وفادار نہیں ہوتے ۔ مرکزی وزیر نے کہا کہ شرومنی اکالی دل کو چاہئے کہ وہ نارائن سنگھ چورا کیلئے احترام کا اظہار کرے۔ وہ جتھیدار سے اپیل کرتے ہیں کہ نارائن سنگھ چئورا کو اعزاز پیش کیا جائے اور میوزیم میں اس کی تصویر اکال تخت صاحب کے بازو لگائی جائے ۔ سابق چیف منسٹر پنجاب بے انت سنگھ کا ‘ جن کا کانگریس سے تعلق تھا ‘ 1995 میں ایک خود کش بمبار نے قتل کردیا تھا ۔ مسٹر بٹو نے کہا کہ جب سکھبیر سنگھ بادل نے ہی اعتراف کیا ہے کہ ان سے گناہ سرزد ہوا ہے جس پر نارائن سنگھ جذباتی ہوگیا اور اس نے دیوار پر فائرنگ کردی ۔ نارائن سنگھ قوم کا ہیرا ہے ۔ مسٹر بٹو نے کہا کہ نارائن سنگھ نے سکھبیر سنگھ پر گرو کے جذبہ میں فائرنگ کی تھی اور اس کے خلاف کوئی مقدمہ درج نہیں کیا جانا چاہئے ۔ اگر کوئی کیس درج ہوتا ہے تو کیس کے تمام اخراجات کو شرومنی گردوارہ پربندھک کمیٹی کو ادا کرنا چاہئے اور نارائن سنگھ کو بری کیا جانا چاہئے ۔ مرکزی وزیر کے بیان پر رد عمل میں مسٹر بکرم سنگھ مجیتیا نے کہا کہ مسٹر بٹو اور بی جے پی کو اس حملے کی مدافعت کرنے پر جواب دینا چاہئے ۔ انہوں نے کہا کہ مسٹر بٹو نے پارلیمنٹ کے باہر حملے کی مذمت کی تھی ۔ بی جے پی کو جواب دینا چاہئے کہ اب کیوں ان کا وزیر گردوارہ میں حملے کی مدافعت کر رہا ہے ۔کیا بی جے پی نارائن سنگھ چئورا کے نظریات کی حمایت کرتی ہے ؟ ۔