ایران :پراسرار خون کی بارش، ریت اور پانی سرخ ہو گیا

ایران کے ایک ساحل پر ایک حیران کن قدرتی واقعہ دیکھنے میں آیا جب وہاں کی ریت اور پانی اچانک چمکدار سرخ ہو گئے۔ ماہرین کے مطابق، یہ تبدیلی ایک نایاب قدرتی مظہر کی وجہ سے ہوئی ہے جسے خون کی بارش کہا جاتا ہے۔ یہ غیر معمولی منظر دیکھ کر مقامی افراد اور سائنسدان حیران رہ گئے، کیونکہ اس طرح کا نظارہ دنیا میں بہت کم دیکھنے کو ملتا ہے۔ بلڈ رین یا خون کی بارش ایک نایاب قدرتی مظہر ہے جس میں بارش کی بوندیں سرخ، گلابی یا بھورے رنگ کی نظر آتی ہیں۔ یہ تب ہوتا ہے جب ہوا میں موجود سرخ مٹی کے باریک ذرات یا دھول کے ذرات بارش کی بوندوں میں شامل ہو جاتے ہیں، جس سے ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے آسمان سے خون برس رہا ہو۔ ماہرین کے مطابق، ایران میں خون کی بارش ہونے کی کئی ممکنہ وجوہات ہو سکتی ہیں: سرخ رنگ کے سمندری کائی کی افزائش – کچھ سائنسدانوں کا خیال ہے کہ سرخ رنگ کی مائیکروبیل کائی سمندر کے پانی میں شامل ہو کر اسے سرخ بنا سکتی ہے۔ ریت کے طوفان کا اثر – ایران اور مشرقِ وسطیٰ میں اکثر ریت کے طوفان آتے ہیں۔ ان طوفانوں میں شامل سرخ مٹی بارش کے پانی میں گھل کر اسے خون کی مانند سرخ کر سکتی ہے۔ صنعتی آلودگی – کچھ ماہرین کا ماننا ہے کہ قریبی صنعتی علاقوں سے خارج ہونے والی آلودگی بھی اس واقعے کی وجہ ہو سکتی ہے۔ اس پراسرار واقعے کے بعد مقامی افراد میں مختلف قیاس آرائیاں شروع ہو گئیں۔ کچھ لوگوں نے اسے نحوست (بدشگونی) سے تعبیر کیا، جبکہ کچھ نے اسے قدرت کی ایک خوبصورت تخلیق قرار دیا۔ دوسری جانب، ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ ایک قدرتی لیکن نایاب موسمیاتی مظہر ہے جس پر تحقیق جاری ہے۔ یہ پہلا موقع نہیں جب خون کی بارش کسی ملک میں ہوئی ہو۔ 2001 میں بھارت کے کیرالہ میں بھی بلڈ رین ہوئی تھی، جس نے سائنسدانوں کو حیران کر دیا تھا۔ اسپین، سری لنکا اور سائبیریا میں بھی سرخ بارش کے واقعات ریکارڈ کیے جا چکے ہیں۔ ابھی تک سائنسدان اس واقعے کے اصل اسباب کا باریک بینی سے مطالعہ کر رہے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ ایک غیر معمولی قدرتی واقعہ ہے، لیکن اس میں کوئی مافوق الفطرت یا پراسرار چیز شامل نہیں۔ یہ نایاب قدرتی مظاہر سائنسدانوں کے لیے تحقیق اور مطالعہ کا اہم موضوع ہیں، اور اس واقعے سے قدرت کی حیرت انگیز قوتوں کو سمجھنے کا ایک نیا موقع ملا ہے۔
