اکبر الدین اویسی نے اسمبلی میں دوبارہ لطیفہ گوئی کی

n657384153174284823048117af530780c972afd54e93b1bd7dcf9c02f5b0fdcaa0303c129e4cd1ae95b758

کان خوش کرنے کا” اور اب ”دو پھیکوؤں ” کا لطیفہ ، ارکان ہنس پڑےحیدرآباد۔ 24 مارچ (سیاست نیوز) مجلس کے فلور لیڈر اکبر الدین اویسی نے ”کانوں کے خوش کرنے کے لطیفہ” کے بعد آج اسمبلی میں مطالباتِ زر کے مباحث میں حصہ لیتے ہوئے دوبارہ لطیفہ گوئی کی۔ ”دو پھیکوؤں” کا ایک لطیفہ سناتے ہوئے ایوان کو زعفران زار کردیا۔ اکبر الدین اویسی نے کہا : ”دو بڑے پھیکو تھے اور وہ دیکھتے ہی دیکھتے بہت مشہور ہوگئے اور ہر طرف ان کے چرچے ہونے لگے۔ ایک مرتبہ دونوں کی اتفاق سے ایک جگہ ملاقات ہوگئی۔ دونوں کو اپنی اپنی صلاحیتوں کے جوہر دکھانے تھے۔ پہلا پھیکو نے کہا: ہمارے باپ دادا کے پاس اتنی بڑی زمین ہے جہاں بیچ ڈالتے ڈالتے گھر واپس آتے تھے تب تک فصل تیار ہوجاتی تھی۔ یہ سن کر دوسرے پھیکو نے کہا کہ یہ تو کوئی بڑی بات نہیں ہے، ہمارے باپ دادا کے پاس تو اِتنا بڑا بمبو تھا جس کے ذریعہ آسمان کے تاروں کو ایک جگہ سے دوسری جگہ اور دوسری جگہ سے تیسری جگہ ہٹاتے تھے۔ جب دوسرے پھیکو کی یہ بات پہلے پھیکو نے سنی تو اسی جلن محسوس ہوئی اور اس نے دوسرے والے پھیکو سے پوچھا: مگر تم یہ تو بتاؤ تمہارے دادا اتنا بڑا بمبو رکھتے کہاں تھے؟ تو پہلے والے پھیکو نے کہا: تعجب ہے تمہیں نہیں معلوم؟ یہ بمبو تمہارے باب دادا کے کھیت میں رکھتے تھے”۔ اس لطیفہ پر ایوان میں تمام ارکان ہنس پڑے پھر اکبر الدین اویسی نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ یہ صرف طنز و مزاح کے طور پر میں نے کہا ہے، اس لطیفہ کا کسی سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ دراصل میں نے یہ لطیفہ گوئی اس لئے کی کیونکہ الیکشن آنے سے پہلے ہر پارٹی عوام کو ہتھیلی میں جنت دکھاتی ہے اور ان کو مختلف قسم کے ترغیبات دیتے ہوئے ان سے کئی وعدے تو کردیتے ہیں، لیکن الیکشن جیتنے کے بعد اسے پورا نہیں کرتے۔