نشہ آور ادویات کی فروخت کے خلاف سخت کاروائی ۔

n6576551081742994232247e0572c7c126c5c6a4f5aea7740136803904b4b7db7282341dd1f958748607afb

جموں صوبے میں نشہ آور ادویات کی سپلائی کو محدود کرنے کے لیے محکمہ انفورسمنٹ کی جانب سے خصوصی مہم چلائی گئی، تاکہ ان ادویات کی فروخت صرف قانونی مقاصد کے لیے ہو اور تاجر ان کے غلط استعمال کو روکنے کے لیے مکمل احتیاط برتیں۔متعلقہ حکام نے تمام متعلقہ فریقین کو ہدایت دی کہ وہ نشہ آور اجزاء پر مشتمل طبی ادویات کی خرید و فروخت میں انتہائی احتیاط برتیں تاکہ ان کا ناجائز استعمال معاشرے میں منشیات کے رجحان کو فروغ نہ دے۔اس مہم کے دوران مختلف اضلاع میں 40 دوا فروشوں کے کاروباری آپریشنز موقع پر ہی بند کر دیے گئے، جن میں جموں میں 8، ریاسی میں 6، کٹھوعہ میں 4، سانبہ میں 7، راجوری میں 5، پونچھ میں 5 اور ادھم پور میں 5 دوا فروش شامل ہیں۔ یہ کارروائی ڈرگس اینڈ کاسمیٹکس ایکٹ 1940 کی دفعہ 22 (ڈی) کے تحت کی گئی، کیونکہ یہ اسٹورز نشہ آور اجزاء پر مشتمل ادویات جیسے پریگابی لین-300 کی فروخت کا مناسب ریکارڈ رکھنے میں ناکام رہے۔اس کے علاوہ، قانون کی خلاف ورزی میں ملوث دوا فروشوں کو شوکاز نوٹس جاری کیے گئے، تاکہ ان کی غیر اخلاقی کاروباری سرگرمیوں کا سدباب کیا جا سکے۔ادویات کی غیر قانونی سپلائی پر سخت نظر رکھنے کے لیے محکمہ صحت نے ایک نیا سرکلر بھی جاری کیا ہے، جس کے تحت فارما انڈسٹری کے تاجروں پر فوری طور پر مخصوص پابندیاں عائد کر دی گئی ہیں تاکہ نشہ آور اجزاء پر مشتمل ادویات کا غیر قانونی ذخیرہ یا فروخت نہ ہو۔ڈرگس کنٹرولر لوٹیکا کھجوریہ نے خبردار کیا کہ اگر کوئی دوا فروش قواعد کی خلاف ورزی میں ملوث پایا گیا تو اس کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔ مرکزی حکومت کی زیرو ٹالرنس پالیسی کے تحت ایسے افراد کے لائسنس منسوخ کیے جائیں گے اور قانونی چارہ جوئی بھی کی جائے گی۔